اللہ کے احکام کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ضروری ہے
جماعتِ اسلامی ہند لکشمی نگر یونٹ کے تحت آرام پارک میں درسِ قرآن نئی دہلی ،16اکتوبر (ہ س )۔ جماعتِ اسلامی ہند لکشمی نگر یونٹ کے تحت ایش آباد، آرام پارک میں درسِ قرآن کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں امیرِ مقامی فلاح الدین فلاحی نے سورہ بقرہ کی آیات
اللہ کے احکام کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ضروری ہے


جماعتِ اسلامی ہند لکشمی نگر یونٹ کے تحت آرام پارک میں درسِ قرآن

نئی دہلی ،16اکتوبر (ہ س )۔

جماعتِ اسلامی ہند لکشمی نگر یونٹ کے تحت ایش آباد، آرام پارک میں درسِ قرآن کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں امیرِ مقامی فلاح الدین فلاحی نے سورہ بقرہ کی آیات 71 تا 75 کا ترجمہ و تفسیر بیان کرتے ہوئے بنی اسرائیل کے واقعے کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل، حق کو قبول کرنے اور دل کی اصلاح کی اہمیت پر تفصیلی گفتگو کی۔

گائے کے واقعے میں اللہ کی قدرت اور احکام کی تعمیل کا سبق

فلاح الدین فلاحی نے سور ہ بقرہ کی آیات 71 تا 75 کی تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ ان آیات میں بنی اسرائیل کے اس واقعے کا ذکر ہے، جس میں انہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے واضح حکم کے باوجود انہوں نے بار بار سوالات کیے اور گائے کی عمر، رنگ اور دیگر خصوصیات کے بارے میں مزید وضاحت طلب کی۔ بالآخر ان کے سامنے گائے کی ایسی صفات بیان کی گئیں جو اسے مخصوص کرتی تھیں، چنانچہ انہوں نے اسے ذبح کیا، اگرچہ وہ ایسا کرنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے تھے۔. ان آیات کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے اس واقعے کے ذریعے اپنی قدرت کی نشانی ظاہر فرمائی۔ بنی اسرائیل کو ایک قتل کے معاملے میں حقیقت واضح کرنے کے لیے گائے کے ایک حصے سے مقتول کو ضرب لگانے کا حکم دیا گیا، جس کے نتیجے میں اللہ کے حکم سے اس معاملے کی حقیقت ظاہر ہوئی۔ یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے اور انسان کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

دلوں کی سختی انسان کے لیے بڑی آزمائش ہے

فلاح الدین فلاحی نے آیات 74 اور 75 کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ قرآنِ مجید بنی اسرائیل کے بعض لوگوں کے طرزِ عمل کا ذکر کرتا ہے کہ اتنی واضح نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی ان کے دل سخت ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کی سختی کو پتھروں سے تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا کہ بعض پتھر ایسے ہوتے ہیں جن سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں، بعض پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی نکلتا ہے، اور بعض اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں۔ اس کے برعکس، انسان کا دل اگر حق کے سامنے نرم نہ ہو تو یہ اس کے لیے ایک بڑی روحانی محرومی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان آیات کا پیغام صرف ماضی کے ایک واقعے تک محدود نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے اس میں نصیحت موجود ہے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ کے احکام کے سامنے ضد اور غیر ضروری بحث سے بچنا چاہیے، حق واضح ہوجانے کے بعد اسے قبول کرنا چاہیے اور اپنی زندگی میں اللہ کے خوف، اطاعت اور عاجزی کو جگہ دینی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قرآنِ مجید کی تلاوت کے ساتھ اس کے مفہوم اور پیغام کو سمجھنا بھی ضروری ہے، تاکہ انسان اپنی عملی زندگی میں اس کی ہدایات سے رہنمائی حاصل کرسکے۔ درسِ قرآن کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ لوگ قرآن کی تعلیمات کو سمجھیں، ان پر غور کریں اور اپنے کردار و عمل کو ان کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔. اس موقع پر لال محمد، مشرف صاحب، حسین صاحب اور انیرالحق صاحب موجود تھے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande