
نئی دہلی، 16 اکتوبر (ہ س): ۔
دہلی کی کڑکڑڈوما عدالت نے 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات کے دوران کھجوری خاص علاقے میں ایک شخص کے قتل کے معاملے میں آٹھ ملزمان کو بری کر دیا، جب کہ سات کو قصوروار قرار دیا ہے۔ یہ حکم ایڈیشنل سیشن جج پروین سنگھ نے سنایا۔
عدالت نے جن ملزمین کو بری کرنے کا حکم دیا، ان میں سچن گپتا عرف موپی، کلدیپ، ہرجیت سنگھ عرف ہیپی، اجے عرف راہل، سچن رستوگی، بھارت بھوشن، سندیپ عرف سنجیو اور دھرمندر عرف دھم شامل ہیں۔
عدالت نے ان ملزمین کو بھارتی تعزیراتِ ہند کی دفعات 149، 302 اور 153 کے تحت شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا اور ان کے خلاف عائد تمام الزامات سے انہیں آزاد کر دیا۔
ملزمین کو بری کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں تین پولیس اہلکار عینی شاہد ہیں، جنہوں نے 25 فروری 2020 کو ملزمان کو کھجوری خاص چوک پر فساد کرتے ہوئے دیکھنے کا دعویٰ کیا تھا۔
تاہم، ان میں سے ایک پولیس اہلکار نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اس نے ملزمان کو کھجوری چوک پر اس وقت دیکھا تھا، جب وہ ہیڈگیوار اسپتال سے واپس آ رہے تھے۔ اس اسپتال میں زخمی کانسٹیبل امیت کا علاج چل رہا تھا۔
دوسرے پولیس اہلکار، کانسٹیبل بھوپیندر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اس نے کھجوری چوک پر کوئی واقعہ پیش آتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔
عدالت نے سچن گپتا عرف موپی کو چھوڑ کر باقی سات ملزمان کو بھارتی تعزیراتِ ہند کی دفعہ 188 کے تحت قصوروار قرار دیا۔اس معاملے میں کھجوری خاص تھانے کی پولیس نے بابو نامی شخص کے قتل کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کی تھی۔ یہ ایف آئی آر بابو کے بھائی پپو کے بیان کی بنیاد پر درج کی گئی تھی۔
پپو کے مطابق، اس کا بھائی آٹو رکشہ چلاتا تھا۔ 25 فروری 2020 کو دوپہر تقریباً دو بجے جب بابو گھر واپس آ رہا تھا، تو کھجوری چوک پر ایک بھیڑ پتھراو¿ کر رہی تھی۔ اسی پتھراو¿ کے دوران بابو شدید زخمی ہو گیا اور 27 فروری کو اس کی موت ہو گئی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ