
نئی دہلی، 16 اکتوبر (ہ س): ۔
کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر حد بندی کے معاملے پر کل جماعتی میٹنگ بلانے کا مطالبہ ایک بار پھر دہرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 13 اگست کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہونے کے بعد 64 دن گزر چکے ہیں، لیکن لوک سبھا اور راجیہ سبھا کا اجلاس نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے اسے ایک غیر معمولی صورت حال قرار دیتے ہوئے کہا کہ حد بندی سے متعلق تجاویز پر پارلیمنٹ میں غور کرنے سے پہلے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ تفصیلی بات چیت ہونی چاہیے۔
کھرگے نے جمعہ کو لکھے گئے خط میں کہا کہ انہوں نے اس معاملے پر پہلی بار 11 اپریل کو وزیر اعظم کو خط لکھ کر کل جماعتی میٹنگ بلانے کی درخواست کی تھی۔ حد بندی پر تبادلہ خیال کے لیے میٹنگ بلانے کا مطالبہ کیے جانے کے باوجود اب تک اس سمت میں کوئی پہل نہیں کی گئی ہے۔
انہوں نے خط میں کہا کہ 14 اپریل کو حد بندی سے متعلق آئینی ترمیمی بل پیش کیے جانے کے بعد اسی دن پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا گیا تھا۔ اس وقت حکومت کے پاس آئینی ترمیمی بل منظور کرانے کے لیے درکار دو تہائی اکثریت موجود نہیں تھی۔
کھرگے نے کہا کہ انہوں نے 16 جولائی اور 27 اگست کو بھی وزیر اعظم کو خطوط لکھ کر کل جماعتی میٹنگ بلانے کی درخواست کی تھی۔ اب انہوں نے چوتھی بار یہ مطالبہ دہرایا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم سے اپیل کی کہ نئی تجاویز کو حتمی شکل دینے سے پہلے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی جائے۔
کھرگے نے کہا کہ تمام جماعتوں کو پارلیمنٹ میں اپنی رائے پیش کرنے اور تجاویز پر غور کرنے کے لیے مناسب وقت ملنا چاہیے۔ انہوں نے وزیر اعظم سے اپیل کی کہ حد بندی کے معاملے پر وسیع تر اتفاق رائے قائم کرنے کے عمل کو نظر انداز نہ کیا جائے اور کسی بھی ایسی تجویز کو عجلت میں آگے نہ بڑھایا جائے، جس پر تمام فریقوں کی رائے ابھی سنی جانی باقی ہو۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایک بار پھر وزیر اعظم سے کل جماعتی میٹنگ بلانے کی درخواست کی ہے، تاکہ حد بندی سے متعلق تجاویز پر تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ