
تقسیم کے درد کے ساتھ بھولی بسری یادوں کو محفوظ کرنے کی کوشش ہے ناول ’سجاتا‘
علی گڑھ, 16 اکتوبر (ہ س)۔
ملک کی تقسیم پر مبنی ادب میں اب تک تقسیم کے درد اور المیے کو خاص اہمیت دی جاتی رہی ہے، لیکن اس کے بعد آنے والی نسلوں کی جدوجہد، نقل مکانی اور پیچھے چھوٹ جانے والی یادوں کو محفوظ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ اسی موضوع کو مرکز میں رکھتے ہوئے پربھا کھیتان فاؤنڈیشن کی جانب سے منعقدہ ایک پروگرام میں مصنفہ سجاتا اور ’احساس وومن آف علی گڑھ‘ کی پروفیسر فائزہ عباسی کے درمیان خصوصی مکالمہ ہوا۔
پروگرام کا انعقاد علی گڑھ کے کنجی لال ریسٹورنٹ میں کیا گیا۔مکالمے کے دوران مصنفہ سجاتا نے اپنے ناول کے حوالے سے کہا کہ ان کا مقصد صرف تقسیم کے درد کو پیش کرنا نہیں، بلکہ تقسیم کے بعد آنے والی نسلوں کی دوبارہ آباد ہونے کی جدوجہد اور ان یادوں کو بھی محفوظ کرنا ہے، جنہیں درد سے بچنے کی کوشش میں لوگ اپنے پیچھے چھوڑ آئے۔ انہوں نے کہا کہ زبان، ثقافت، تہذیب، کھانے پینے کے طور طریقے اور روایات کسی بھی معاشرے کی شناخت کا اہم حصہ ہیں۔ انہیں یاد رکھنا اور نئی نسل تک پہنچانا ضروری ہے۔مصنفہ نے کہا کہ تقسیم کی یادوں کو سمجھتے وقت صرف اس کے دردناک پہلو تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ تقسیم کی وراثت کو وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے، تاکہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے اختلافات اور فرقہ وارانہ تقسیم کو سمجھا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معاشرے کی ترقی کے لیے باہمی اعتماد، مشترکہ ثقافت اور آپسی میل جول ضروری ہے۔ ڈاکٹر منیشا منی نے بتایا کہ پروگرام کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ تاریخ کے سانحات کو یاد رکھنے کے ساتھ ساتھ ان زبانوں، روایات اور ثقافتی رشتوں کو بھی محفوظ رکھنا ضروری ہے، جو لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔پروگرام میں ڈاکٹر فائزہ عباسی نے مصنفہ سجاتا سے ان کے ناول، اس کے موضوع اور تقسیم کے بعد آنے والی نسلوں کے تجربات کے حوالے سے گفتگو کی۔
پروگرام کی نظامت احساس ویمنس آف علی گڑھ کی ہی ڈاکٹر منیشا منی نے کی، جبکہ اظہارِ تشکر ڈاکٹر احمد مجتبیٰ صدیقی نے کیا۔اس موقع پر پروگرام میں شریک مہمانوں کو اعزاز سے نوازا گیا۔ مکالمے کے بعد حاضرین نے مصنفہ کے دستخط شدہ ناول انہی سے حاصل کیں۔ پروگرام کے انعقاد میں کنجی لال خاندان نے بھی بھرپور تعاون کیا۔ اس دوران معروف سیاسی رہنما وویک بنسل، پروفیسر طارق چھتاری، پروفیسر محمد وسیم علی، پروفیسر ارمان رسول فریدی، پروفیسر ثمینہ خان، پروفسیر عروس ،معروف سماجی کارکن آرتی متل،پروفسیر فرخ ارجمند،مسز شہلا، پروفیسرضیا الرحمن ،پروفسیر عاصم صدیقی کے علاوہ بڑی تعداد میں شہر اور یونیورسٹی کے ادب نواز لوگوں نے شرکت کی ۔۔۔۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ