
شعبہ اردو اے ایم یو میں طلبا کا سرسید شناسی پر پروگرام کا انعقاد
علی گڑھ، 16 اکتوبر (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کی جانب سے یومِ سرسید سے ایک روز قبل رشید احمد صدیقی آڈیٹوریم میں سرسید سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام میں طلبہ و طالبات نے سرسید احمد خان کی شخصیت، ان کے افکار اور تعلیمی مشن پر تقاریر پیش کیں۔ مقررین نے کہا کہ اس طرح کے پروگرام سرسید کو سمجھنے اور ان کے مشن کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پروگرام کی صدارت پروفیسر قاضی جمال حسین نے کی، جبکہ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر طارق چھتاری اور مہمان، اعزازی کے طور پر پروفیسر صغیر افراہیم موجود رہے۔
پروگرام میں شعبۂ اردو کے صدر پروفیسر سید سراج الدین اجملی، اساتذہ اور طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ پروگرام کا آغاز محمد مرسلین کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ اس کے بعد محمد ارقم نے سرسید کا خطاب ’’عزیز طالبِ علم‘‘ پیش کیا۔ طلبہ و طالبات نے سرسید احمد خان کے اقوال، ان کی تعلیمی خدمات اور ان کے افکار پر مختلف انداز میں اظہارِ خیال کیا۔ ان میں عمیرہ جاوید، محمد ینز احمد، محمد معین اشرف، فاضلہ شفیق، سلمان اعجاز، محمد عمر فاروق، مریم سلطانہ، لاریب محسن، اریبہ عارف شامل رہے۔
اس موقع پر شعبۂ اردو کے استاد ڈاکٹر معید الرحمن نے سرسید کے افکار و نظریات پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ شعبۂ اردو کے صدر پروفیسر سید سراج اجملی اور پروفیسر محمد علی جوہر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پروگرام کا نظامت محمد ارقم نے انجام دیا، جبکہ آخر میں پروفیسر امتیاز احمد نے اظہارِ تشکر کیا۔ پروگرام کے کنوینر پروفیسر خالد سیف اللہ نے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے پروگرام کے مقاصد پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اس طرح کی علمی و ادبی سرگرمیاں طلبہ و طالبات کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور سرسید کے تعلیمی مشن سے نئی نسل کو روشناس کرانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔
پروفیسر سید سراج اجملی، صدر شعبۂ اردو نےکہا کہ’’سرسید احمد خان نے تعلیم کو معاشرے کی ترقی کا بنیادی ذریعہ بنایا۔ آج کے طلبہ کو ان کے افکار سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے علم، تحقیق اور سائنسی سوچ کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔‘‘ پروفیسر طارق چھتاری نے کہا کہ ’’سرسید احمد خان کی فکر آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کا تعلیمی مشن نئی نسل میں شعور، خود اعتمادی اور ترقی پسندانہ سوچ پیدا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں طلبا وطالبات کے ساتھ اساتذہ بھی موجود ہرے ۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ