
نئی دہلی، 16 اکتوبر(ہ س )۔
ملک کی راجدھانی دہلی میں مودی حکومت کی جانب سے سخت حفاظتی انتظامات کیے جانے کے باوجود عام آدمی پارٹی نے ترنگا لہرا دیا۔ پارٹی کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج، رکن اسمبلی سنجیو جھا اور کلدیپ کمار سمیت متعدد کارکنوں نے بھاری پولیس فورس کی موجودگی کے باوجود اپنی آن، بان اور شان، 270 فٹ لمبے ترنگے کے ساتھ نارتھ ایونیو سے راشٹرپتی بھون تک پُرامن پیدل مارچ کیا اور واپس نارتھ ایونیو پہنچ کر مارچ کا اختتام کیا۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ آزادی کا حقیقی مطلب یہ ہے کہ ملک کا کوئی بھی شہری اپنے ملک میں کہیں بھی ترنگا لہرا سکتا ہے۔اسی آزادی کے حصول کے لیے ملک نے جدوجہد کی تھی۔ کوئی بھی حکومت کسی کو ترنگا لہرانے سے نہیں روک سکتی۔ حکومت لوگوں سے تھالیاں بجوائے گی اور دیے جلوائے گی، لیکن اگر عام شہری پُرامن طریقے سے کوئی کام کریں تو وہ غلط کیسے ہو سکتا ہے؟سوربھ بھاردواج نے کہا کہ ہمارے بزرگوں نے گولیاں کھا کر آزادی حاصل کی تھی۔ حکومت کون ہوتی ہے یہ بتانے والی کہ ہم پرچم لہرائیں گے یا نہیں، ہم کیا کھائیں گے، آج تھالی بجائیں گے یا کسی کی سالگرہ ہے تو دیے جلائیں گے؟ یہ کیا طریقہ ہے؟ اس ملک کے لوگوں کا جب دل چاہے گا، وہ ترنگا لہرائیں گے۔ کوئی پولیس یا حکومت انہیں ایسا کرنے سے نہیں روک سکتی۔سوربھ بھاردواج نے مزید کہا کہ ہمارے بزرگوں نے آزادی کے لیے اس لیے جدوجہد کی تھی تاکہ ہم جب اور جہاں چاہیں، اپنے ملک کا ترنگا لہرا سکیں۔ ہمیں کسی حکومت یا پولیس کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ جمعرات کو حکومت اس معاملے کو لے کر عدالت بھی گئی تھی کہ لوگ پرچم لہرائیں گے، تو عدالت نے جواب دیا کہ اس میں ہم کیا کر سکتے ہیں؟ اس کے بعد پولیس کہہ رہی ہے کہ ہم کناٹ پلیس اور سینٹرل پارک بند کر دیں گے۔ ایسا صرف اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ نوجوان ترنگا لہرا رہے ہیں۔ یہ بہت چھوٹے دل اور تنگ ذہنیت والی حکومت ہے۔ حکومت گھبرائی ہوئی ہے اور اسے معلوم ہے کہ نوجوان اسے اقتدار سے اکھاڑ پھینکنے والے ہیں۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ کیا ہم ہندوستان میں اپنا ترنگا نہیں لہرا سکتے؟ کیا ترنگا لہرا کر ہم کوئی غلط کام کر رہے ہیں؟ انگریزوں کے ساتھ بھی ہماری یہی لڑائی تھی۔ انگریز کہتے تھے کہ برطانوی پرچم لہرایا جائے گا، جبکہ ہندوستانی کہتے تھے کہ ہم اپنا ترنگا لہرائیں گے۔ آج ہم اسی ترنگے کو راشٹرپتی بھون کے سامنے لہرا رہے ہیں۔سوربھ بھاردواج نے مزید کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ ہر کام صرف اسی کے حکم پر ہو، لیکن اگر کوئی شہری اپنی مرضی سے پُرامن طریقے سے کچھ کرنا چاہے تو اسے روک دیا جاتا ہے۔ یہ پوری طرح غلط ہے۔ شہریوں کو پُرامن طریقے سے اپنے کام کرنے سے روکنے کی اسی پالیسی کے خلاف آج ہم ترنگا لے کر یہاں آئے ہیں۔کناٹ پلیس میں تہواروں کے موسم کے دوران تاجروں اور کاروبار کو ہونے والے نقصان سے متعلق سوال پر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ گزشتہ مرتبہ بھی حکومت نے ہی تمام دکانیں بند کرائی تھیں۔ حکومت کو ڈر ہے کہ یہاں آنے والے نوجوان سی پی کے ریستورانوں میں کھانا کھاتے ہیں، جس سے ان کی فروخت پانچ سے دس گنا تک بڑھ جاتی ہے۔حکومت نے ہی تاجروں کے روزگار کو نقصان پہنچایا ہے۔ حکومت کو اس بات سے جلن ہے کہ ملک کے نوجوان یہاں آ رہے ہیں۔ تمام ریستوران حکومت نے ہی بند کرائے ہیں۔دوسری جانب براڑی کے رکن اسمبلی سنجیو جھا نے کہا کہ ترنگا ہماری آن اور شان ہے۔ترنگا لہرانے سے کسی کو پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔ ترنگے سے امن و امان خراب نہیں ہوتا۔ معلوم نہیں کچھ لوگوں کو آخر ترنگے سے نفرت کیوں ہے؟ اسی لیے ہم آج ترنگا لے کر نکلے ہیں۔ ہم اس ترنگے کے لیے اپنی جان تک قربان کرنے کو تیار ہیں۔ادھر کونڈلی کے رکن اسمبلی کلدیپ کمار نے کہا کہ یہ ملک نوجوانوں، کسانوں اور خواتین کا ہے اور ترنگا لہرانا ہمارا آئینی حق ہے۔ ہم مودی حکومت سے کہنا چاہتے ہیں کہ جب انگریزوں نے ترنگا لہرانے سے روکا تھا تو انہیں جانا پڑا تھا۔ آج یہ مودی حکومت ہے، جس کی تنظیم آر ایس ایس نے 52 سال تک ترنگا نہیں لہرایا۔ اب مودی حکومت اور آر ایس ایس کو بھی جانا پڑے گا۔ ملک کو ان کالے انگریزوں سے آزادی چاہیے اور ہم اسی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہم نے راشٹرپتی بھون اور پارلیمنٹ کے سامنے ترنگا لہرا دیا ہے اور ہمیں نہ پولیس روک سکی، نہ ای ڈی اور نہ ہی سی بی آئی۔کلدیپ کمار نے مزید کہا کہ یہ ملک ہمارا بھی ہے۔ یہ آر ایس ایس کا ہیڈکوارٹر نہیں ہے، جہاں آزادی کے بعد 52 سال تک ترنگا نہیں لہرایا گیا۔ ہم آر ایس ایس کے ہیڈکوارٹر پر بھی ترنگا لہرا دیں گے اور وہ ہمیں روک نہیں پائیں گے۔ یہ ملک بی جے پی اور آر ایس ایس والوں کے باپ کی جاگیر نہیں ہے۔ یہ ملک نوجوانوں، کسانوں، خواتین اور ہر اس شہری کا ہے جو ترنگے اور آئین پر یقین رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی جی، پوری بی جے پی، آر ایس ایس اور پولیس نے اپنی تمام کوششیں کر لیں، لیکن وہ نوجوانوں کو نہیں روک سکے اور ہم نے ترنگا لہرا دیا۔ ملک میں نوجوانوں کو ترنگا لہرانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais