
نئی دہلی، 16 اکتوبر (ہ س):۔
پنجاب میں منشیات کے کاروبار، منشیات کے خلاف آواز اٹھانے والے پرویندر سنگھ عرف جھوٹا کے قتل اور گلزار سنگھ کی خودکشی سمیت تین معاملات پر مرکزی وزارت داخلہ نے ریاستی حکومت سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔
وزارت نے گرداس پور ضلع میں تین افراد پر ہونے والے حملے کے معاملے میں بھی پنجاب حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ ان واقعات میں منشیات سے مبینہ تعلق اور ریاست میں امن و قانون کی صورت حال پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کے بارے میں حکومت سے معلومات مانگی گئی ہیں۔
وزارت داخلہ نے جمعہ کو پنجاب کے چیف سکریٹری کو الگ الگ خطوط بھیج کر مانسا میں 13 اکتوبر کو پرویندر سنگھ عرف جھوٹا کے قتل، گرداس پور ضلع کے ماڑی پنواں گاو¿ں میں تین افراد پر حملے اور 8 ستمبر کو گلزار سنگھ کی خودکشی کے معاملات میں تفصیلی رپورٹ فراہم کرنے کی درخواست کی۔
وزارت نے مانسا کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پرویندر سنگھ عرف جھوٹا پنجاب میں منشیات اور نفسیاتی اثرات مرتب کرنے والی ادویات کی مبینہ غیر قانونی فروخت اور ان کے غلط استعمال کے خلاف آواز اٹھاتے تھے۔ خط میں ان کے قتل کے بعد ریاست میں احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
وزارت نے ریاستی حکومت سے اس واقعے اور اب تک کی گئی کارروائی کی تفصیلی معلومات طلب کی ہیں۔
گرداس پور ضلع کے ماڑی پنواں گاو¿ں میں ہوئے حملے کے سلسلے میں وزارت داخلہ نے اپنے خط میں کہا ہے کہ اس واقعے میں بکرم جیت سنگھ کی موت ہو گئی، جب کہ نشان سنگھ اور گرمکھ سنگھ شدید زخمی ہو گئے۔ خط میں عائد الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس حملے کا تعلق منشیات سے ہو سکتا ہے۔ ریاست میں امن و قانون پر اس کے ممکنہ اثرات کو دیکھتے ہوئے وزارت نے پنجاب حکومت سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔
گلزار سنگھ کی خودکشی کے معاملے میں وزارت نے کہا کہ 8 ستمبر کو پیش آنے والے اس واقعے سے متعلق خبروں کے مطابق، متوفی منشیات کی لت سے متاثر ایک نوجوان کے والد تھے۔ انہوں نے مبینہ طور پر اپنے علاقے میں مصنوعی منشیات کی دستیابی پر سوال اٹھائے تھے اور پنجاب حکومت کے ایک وزیر پر الزامات لگائے تھے۔
خط میں اس الزام کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ مقامی گرام پنچایت کی جانب سے انہیں مبینہ طور پر ہراساں کیا گیا اور ان پر دباو¿ ڈالا گیا۔ وزارت نے اس معاملے میں بھی ریاستی حکومت سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ تاہم، ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
پرویندر سنگھ کے قتل سے متعلق خط میں وزارت داخلہ نے پنجاب حکومت سے منشیات سے پاک ہندوستان کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ خط کے مطابق، مرکزی وزیر داخلہ نے 10 اگست 2026 کو پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ ’منشیات پر قابو پانے سے متعلق وژن دستاویز (2026-2029)‘ شیئر کی تھی۔ اس دستاویز میں منشیات کے خلاف کارروائی کے لیے اہم ترجیحات اور مختلف اقدامات کا ذکر ہے۔
وزارت نے پنجاب حکومت سے درج ذیل امور پر کی گئی کارروائی کی معلومات طلب کی ہیں:
- مخصوص انسدادِ منشیات ٹاسک فورس (اے این ٹی ایف) کی تشکیل یا تنظیمِ نو۔
- مالیاتی تحقیقات کو مو¿ثر بنانا۔
- نارکو کوآرڈینیشن سینٹر (این سی او آر ڈی) کے کام کا نتیجہ خیز جائزہ۔
- استغاثہ کے نظام کو مضبوط بنانا۔
- این ڈی پی ایس قوانین کے تحت درج مقدمات کی سماعت کرنے والی عدالتوں کو مستحکم کرنا۔
- نوڈل افسران کی تقرری۔
- منشیات کی بین الاقوامی اسمگلنگ میں ملوث نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ