
علی گڑھ, 15 اکتوبر (ہ س) ۔
شعبہ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں سرسید تقریبات کے سلسلے میں رشید احمد صدیقی آڈیٹوریم میں ایک علمی مذاکرہ منعقد کیا گیا۔ مختلف شعبوں میں مطالعات سرسید کی صورت حال کے موضوع پر ہونے والے اس مذاکرے کی صدارت پروفیسر شان محمد نے کی جبکہ مذاکرے کا افتتاح پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خاں نے کیا۔ نظامت کا فریضہ ڈاکٹر معید الرحمان نے انجام دیا۔
پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خاں نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرسید احمد خاں کا مقصد صرف تعلیم نہیں بلکہ تربیت بھی تھا،اسی لیے انہوں نے ایک اقامتی ادارہ قائم کیا، جس نے صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ اس پورے بر صغیر کو علمی، تحقیقی اور ثقافتی اعتبار سے متاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سرسید نے کسی ایک شعبے میں کامیابی نہیں حاصل کی بلکہ قانون سے لے کر تعلیم، سیاست، زراعت، اورسماجی اصلاح جیسے اہم میدانوں میں اپنے نقوش چھوڑے جس کی گواہ ان کی کتابیں ہیں، ہمیں اپنے اساتذہ اور طلبا سے بھی یہی امید ہے کہ وہ ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کثیر جہتی بنیں گے اور ملک و قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔
صدر شعبہ اردو پروفیسر سید سراج الدین اجملی نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مختلف شعبوں میں سرسید احمد خاں سے متعلق جو کام ہورہے ہیں ان سے واقفیت حد درجہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے موجودہ صورت حال ہمارے سامنے آئے گی جو در اصل احتساب ہے۔
مذاکرے کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر شان محمد نے کہا کہ یہاں جتنے مقالات پیش کیے گئے وہ تحقیقی نوعیت کے تھے اور بہت بامعنی تھے۔ انہوں نے صدر شعبہ اردو کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ سرسید مطالعات کا جائزہ وقتا فوقتا لیتے رہنا ضروری ہے اس سے راہ سے بھٹکنے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرسید احمد خاں کے افکار و خیالات کی ہر دور میں تعبیر و تشریح ہوتی رہے گی اور اس سے راہیں ملتی رہیں گی۔
سر سید اکیڈمی کے ڈائریکٹر پروفیسر شافع قدوائی نے اکیڈمی کے تحت ہونے والے مطالعات سرسید کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ اکیڈمی مسلسل کتابیں شائع کر رہی ہے اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ افکار سرسید کے مخفی گوشوں سے متعلق تحقیقی نوعیت کی کتابیں منظر عام پر لائے۔ انھوں نے اس حوالے سے گزشتہ دو برس میں شائع ہونے والی متعدد کتابوں کا ذکر بھی کیا۔ اسی طرح سرسید احمد خاں کی ان کتابوں کا بھی تذکرہ کیا جو حواشی و تعلیقات کے ساتھ شائع کی گئی ہیں۔ انہوں نے بطور خاص تفسیر قرآن، سرسید کا قیام بنارس(اسعد فیصل فاروقی) سرسید کا قیام میرٹھ (معصوم مراد آبادی) سرسید کا قیام مراداباد (راحت ابرار) ،سرسید کا قیام بجنور (ساجد نعیم) وغیرہ کا ذکرکیا۔
خلیق احمد نظامی مرکز علوم القرآن کے ڈائریکٹر پروفیسر عبد الرحیم قدوائی نے مغرب میں سرسید مطالعات کی صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ مغرب میں سرسید مطالعات کا آغاز کرنل گراہم کی کتاب سے ہوتاہے، جس کے بعد متعدد مغربی مصنفین نے سرسید کو مطالعے کا محور بنایا۔ ڈیوڈ لیلی ویلڈ، ٹرال اور رابن جانسن کی تحریروں کا انھوں نے ذکر کیااور ان تصنیفات کا محاکمہ کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام مصنفین کی کتابوں میں سرسید کی تصویر استعماری پس منظر میں پیش کی گئی ہے۔
پروفیسر محب الحق نے شعبہ سیاسیات میں سر سید مطالعات پر روشنی ڈالی، انہوں پروفیسر شان محمد کی علمی و تحقیقی تصنیفات کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ شعبہ سیاسیات سے وابستہ اساتذہ و طلبہ وقتا فوقتا سرسید احمد خاں کے افکار و خیالات کا تجزیہ سیاسی پس منظر میں کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر شان محمد کا یہ امتیاز ہے کہ علی گڑھ میں سرسید کو موضوع بنا نے والوں میں انہیں اولیت کا درجہ حاصل ہے۔
پروفیسر محمد سجاد نے شعبہ تاریخ میں مطالعات سرسید کی صورت حال کا جائزہ لیا اور سرسید سے متعلق مستشرقین اور مغربی مؤرخین کے کارناموں پر تنقیدی نظر ڈالی۔ انہوں نے لیلی ویلڈ اور انل سیل کے کارناموں کا تفصیلی تجزیہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہارون خاں شیروانی، کنور محمد اشرف، اقتدار عالم خاں اور عرفان حبیب کی تصنیفات امتیازی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شعبہ تاریخ کے اساتذہ و طلبا کے مضامین مختلف اوقات میں ملک کے اہم رسائل و جرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔
پروفیسر ثناء اللہ نے عربی زبان میں ملکی و غیر ملکی سطح پر ہونے والے سرسید مطالعات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے عراق، مصر، الجزائر، مراکش، شام اور دیگر عرب ممالک میں سر سید کے افکار و خیالات پر شائع ہونے والی کتابوں کا تعارف کرایا۔ انہوں نے محمد عبدہ، رشید رضا مصری اور جمال الدین افغانی وغیرہ کا ذکر بطور خاص کیا۔ انہوں نے کہا کہ سر سید کی کتاب آثار الصنادید کا ترجمہ احمد القاضی نے کیا ہے جو بہت اہم ہے۔ پروفیسر ثناء اللہ نے ان مضامین کا بھی ذکر کیا جو عرب دنیا کے رسائل میں وقتا فوقتا شائع ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے شعبہ عربی کے اساتذہ و طلبا کی سرسید شناسی پر بھی روشنی ڈالی، پروفیسر صلاح الدین عمری، ابوسفیان اصلاحی اور شعبے کے متعدد اساتذہ کی تصنیفات کا خصوصی ذکر کیا، اسی طرح شعبے کے ریسرچ اسکالروں کے ذریعہ کیے جانے والے کاموں پر بھی روشنی ڈالی۔
پروفیسر امتیاز احمد نے شعبہ اردو میں سرسید شناسی کی روایت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے شعبہ میں ہونے والے تحقیقی کاموں کے ساتھ ہی شعبہ اردو کے اساتذہ کی تصنیفات اور ان کے شائع شدہ مقالات کا بطور خاص تذکرہ کیا۔ انہوں نے رشید احمد صدیقی، پروفیسر آل احمد سرور، عتیق احمد صدیقی، اصغر عباس، پروفیسر ابوالکلام قاسمی، اور قاضی افضال حسین کی خدمات کا خصوصی تذکرہ کیا۔
پروفیسر سعود عالم قاسمی نے شعبہ دینیات میں مطالعات سرسید پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے عبد اللہ انصاری، سعید احمد اکبر آبادی، پروفیسر علی محمد نقوی، اور پروفیسر توقیر عالم فلاحی کی سرسیدسے متعلق تصنیفات کا تذکرہ کیا۔ پروفیسر سعود عالم قاسمی نے سرسید احمد خاں کے دینی افکار سے متعلق علماء کے خیالات کا محاکمہ بھی کیا۔
اس موقع پر ہندی کے پروفیسر شمبھو ناتھ تیواری، پروفیسر عبد المنان، ڈاکٹر اسعد فیصل فاروقی، اور شعبہ اردو کے تمام اساتذہ، ریسرچ اسکالرز اور طلبا و طالبات موجود رہے ۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ