
نئی دہلی، 15 اکتوبر (ہ س)۔
سپریم کورٹ نے احتجاجی مظاہروں اور بھیڑ کو قابو میں کرنے کے دوران پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے صحافیوں کے ساتھ برتاو¿ کے سلسلے میں رہنما خطوط طے کرنے کے مطالبے پر دائر عرضی کی سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔
عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ووٹر لسٹ کی خصوصیجامع نظرثانی کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی کوریج کے دوران پولیس نے کئی صحافیوں کے ساتھ مارپیٹ کی، جن میں خاتون صحافی بھی شامل تھیں۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ اس دوران صحافیوں کے ساتھ نامناسب سلوک کیا گیا۔
عرضی گزار کی جانب سے پیش ہونے والی سینئر وکیل اندرا جے سنگھ نے کہا کہ اس معاملے میں ایک قومی سطح کا پروٹوکول ہونا چاہیے، تاکہ احتجاجی مظاہروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت اس سلسلے میں رہنما خطوط طے کرنا چاہے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ