صرف نکسل ازم کا خاتمہ کافی نہیں، تشدد سے متاثرہ افراد کے درد کو دور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے: امت شاہ
دنتے واڑہ، 15 اکتوبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو کہا کہ صرف نکسل ازم کا خاتمہ کافی نہیں ہے بلکہ پانچ دہائیوں سے تشدد سے متاثرہ لوگوں کے دکھ درد کو دور کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ شاہ نے کہا کہ نکسل ازم کے باع
صرف نکسل ازم کا خاتمہ کافی نہیں، تشدد سے متاثرہ افراد کے درد کو دور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے: امت شاہ


دنتے واڑہ، 15 اکتوبر (ہ س)۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو کہا کہ صرف نکسل ازم کا خاتمہ کافی نہیں ہے بلکہ پانچ دہائیوں سے تشدد سے متاثرہ لوگوں کے دکھ درد کو دور کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ شاہ نے کہا کہ نکسل ازم کے باعث معذور ہونے والے افراد کی زندگیوں میں دوبارہ خوشیاں لانا، انہیں خود کفیل بنانا اور عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنے میں مدد فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ شاہ چھتیس گڑھ کے دنتے واڑہ میں معذور افراد کے لیے معاون آلات کی تقسیم کے ایک کیمپ کے ورچوئل افتتاح کے موقع پر خطاب کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ نکسل ازم نے گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران چھتیس گڑھ کے بستر علاقے کے غریب قبائلیوں کو گہرا نقصان پہنچایا ہے۔ صرف نکسل ازم کا خاتمہ کافی نہیں بلکہ تشدد سے متاثرہ افراد کے دکھ درد کو دور کرنا، ان کی زندگیوں میں دوبارہ خوشیاں لانا، انہیں خود کفیل بنانا اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے میں مدد کرنا بھی حکومت کی ترجیح ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چھتیس گڑھ میں ’سیوا سنکلپ ابھیان‘ کے تحت 5 سے 7 اکتوبر کے درمیان جگدل پور میں معاون آلات کی تقسیم کا پروگرام منعقد کیا گیا تھا۔ اس مہم سے 3600 سے زیادہ معذور افراد کو فائدہ پہنچا، جن میں صرف بستر کے 1570 سے زیادہ مستفیدین شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار بستر کے لوگوں کے دکھ اور نکسل ازم کے غریب قبائلی خاندانوں پر پڑنے والے اثرات کو ظاہر کرتے ہیں۔ پانچ دہائیوں تک جاری رہنے والے نکسل ازم نے علاقے کے لوگوں کو جسمانی، سماجی اور معاشی طور پر نقصان پہنچایا ہے۔ تشدد کے باعث بڑی تعداد میں لوگ معذوری کا شکار ہوئے، جس سے ان کی معمول کی زندگی اور روزگار متاثر ہوا۔

شاہ نے کہا کہ نکسل ازم کے خاتمے کا یہ مطلب نہیں کہ گزشتہ پانچ دہائیوں کے دکھوں کو بھی مٹایا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تشدد سے متاثرہ افراد کے زخموں پر مرہم رکھا جائے اور انہیں دوبارہ اپنی زندگی سنوارنے میں مدد فراہم کی جائے۔ ایسے افراد کی شناخت کرکے انہیں ضروری امداد فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ مصنوعی اعضا اور معاون آلات ملنے سے متاثرہ افراد دوبارہ روزمرہ کے کام انجام دینے اور خود کفیل بننے کی سمت آگے بڑھ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نکسل ازم کے باعث جن لوگوں نے اپنے ہاتھ پاو¿ں کھو دیے، جن کی قوت سماعت متاثر ہوئی یا جن کی بینائی چلی گئی، ان کی مدد کرنا انتہائی ضروری ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ایسے تمام ضرورت مند افراد کی شناخت کرکے ان کی ضرورت کے مطابق مصنوعی اعضا اور معاون آلات فراہم کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ہاتھ فراہم کرنے کا مقصد لوگوں کو دوبارہ اپنے ہاتھوں سے کام کرنے کے قابل بنانا ہے۔ اسی طرح مصنوعی ٹانگ کی مدد سے وہ دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوکر معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکتے ہیں۔ انہوں نے امدادی پروگرام کے ابتدائی نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیا۔

انہوں نے اس مہم کے ایک مستفید شخص کا تجربہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ حال ہی میں انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک ایسے شخص کی بات سنی، جسے اس پروگرام کے تحت مدد ملی تھی۔ اس شخص نے بتایا کہ تین سال بعد وہ اپنے ہاتھ سے گلاس اٹھاکر خود پانی پی سکا۔ شاہ نے کہا کہ اس شخص کی بات سن کر انہیں بے حد خوشی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کسی ضرورت مند شخص کو دوبارہ اپنے روزمرہ کے کام خود انجام دینے کے قابل بنانا محض امداد فراہم کرنا نہیں بلکہ اسے خود اعتمادی، عزتِ نفس اور خود کفالت واپس دلانے کی کوشش بھی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ مودی حکومت نے 31 مارچ 2026 سے پہلے ملک سے نکسل ازم کے خاتمے کا پختہ عزم کیا تھا اور اب نکسل ازم ختم ہوچکا ہے۔ نکسل تشدد سے متاثرہ افراد کی بازآبادکاری اور ان کی زندگی بہتر بنانے کے لیے بھی اسی طرح ٹھوس کوششیں کی جانی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ ’سیوا سنکلپ ابھیان‘ کا مقصد صرف معذور افراد کو آلات فراہم کرنا نہیں بلکہ انہیں سماج کے مرکزی دھارے سے جوڑنا، خود کفیل بنانا اور باعزت زندگی گزارنے میں تعاون کرنا بھی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مصنوعی اعضا اور دیگر معاون آلات کی مدد سے نکسل تشدد سے متاثرہ افراد اپنی زندگی کو نئی سمت دے سکیں گے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ تشدد سے متاثرہ افراد کو ضروری مدد فراہم کرکے آگے بڑھنے کے مواقع دیے جائیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande