توہین عدالت کے حلف نامے میں معافی مانگنا لازمی عدالتی عمل،الزامات اعتراف نہیں: وزارت داخلہ
نئی دہلی، 15 اکتوبر (ہ س)۔ مرکزی وزارت داخلہ نے سپریم کورٹ میں واضح کیا ہے کہ توہین عدالت کے نوٹس کے جواب میں حلف نامے کے ذریعے غیر مشروط معافی مانگنا عدالتی کارروائی کا لازمی حصہ ہے اور اس کا مطلب الزامات کو تسلیم کرنا نہیں ہے۔ وزارت کا یہ بیان ا
HOME-MINS-ON-SC-CONTEMT-CASE


نئی دہلی، 15 اکتوبر (ہ س)۔ مرکزی وزارت داخلہ نے سپریم کورٹ میں واضح کیا ہے کہ توہین عدالت کے نوٹس کے جواب میں حلف نامے کے ذریعے غیر مشروط معافی مانگنا عدالتی کارروائی کا لازمی حصہ ہے اور اس کا مطلب الزامات کو تسلیم کرنا نہیں ہے۔

وزارت کا یہ بیان ان میڈیا رپورٹس کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جن میں مرکزی وزارت داخلہ کے سکریٹری کی جانب سے توہین عدالت کے نوٹس کے جواب میں معافی مانگنے کی خبر دی گئی تھی۔ یہ نوٹس 10 اکتوبر کو چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران عارضی طور پر موبائل انٹرنیٹ خدمات بند کرنے اور آمدورفت پر پابندیاں عائد کرنے سے متعلق تھا۔

قابل ذکر ہے کہ مرکزی وزارت داخلہ کے سکریٹری اور دہلی پولیس کمشنر نے سپریم کورٹ سے اپنے خلاف جاری توہین عدالت کے نوٹس کو منسوخ کرنے کی درخواست کی ہے۔ ان کے حلف ناموں میں مو¿قف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کے اقدامات متناسب، قانونی تقاضوں کے مطابق اور امن و امان برقرار رکھنے تک محدود تھے۔

وزارت داخلہ کے مطابق، بعض میڈیا اداروں نے بتایا ہے کہ مرکزی وزارت داخلہ کے سکریٹری نے توہین عدالت کے نوٹس کے جواب میں سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگی ہے۔ اس سلسلے میں وزارت نے واضح کیا کہ جب بھی توہین عدالت کا نوٹس جاری ہوتا ہے تو جواب میں داخل کیے جانے والے حلف نامے کی ابتدا غیر مشروط معافی سے کی جاتی ہے۔ اس کے بعد ہی دیگر حقائق اور دلائل پیش کیے جاتے ہیں۔ توہین عدالت کی عرضیوں میں اس طریقہ کار پر عمل کرنا لازمی ہوتا ہے۔

وزارت نے کہا کہ اسی طریقہ کار کے تحت وزارت داخلہ کے سکریٹری، پولیس کمشنر اور دیگر متعلقہ افسران کے حلف ناموں کے پہلے پیراگراف میں اس ضرورت کو پورا کیا گیا ہے۔ اس کے بعد حلف ناموں میں تفصیلی معلومات اور دلائل پیش کیے گئے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande