
ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی یومِ پیدائش پر سنبھل کے شری کلکی دھام میں مشترکہ ثقافتی وراثت، اخلاقی اقدار اور سماجی ہم آہنگی پر تبادلہ خیال
نئی دہلی/سنبھل، 15 اکتوبر (ہ س )۔
ہندوستان کے سابق صدر اور عظیم سائنس داں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے یومِ پیدائش کے موقع پر سنبھل واقع شری کلکی دھام میں ’رِشی صوفی مکالمہ‘ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ہندوستان کی مشترکہ روحانی وراثت، اخلاقی اقدار اور سماجی ہم آہنگی پر تبادلہ خیال ہوا۔
اس موقع پر آل انڈیا درگاہ کمیٹی نے ’رِشی صوفی مکالمہ‘ مہم کو وسیع پیمانے پر آگے بڑھانے اور بالخصوص نئی نسل کو ہندوستان کے سنتوں، رِشیوں اور صوفی روایات کے انسانیت نواز پیغامات اور ثقافتی وراثت سے جوڑنے کے عزم پر زور دیا۔
پروگرام میں آچاریہ پرمود کرشنم، بی جے پی اقلیتی مورچہ کے سبکدوش قومی صدر جمال صدیقی، مسلم عالم عمر فاروق اشرفی اور انڈو اسلامک اسکالر و صوفی مصنف غلام رسول دہلوی نے شرکت کی۔
مقررین نے کہا کہ ڈاکٹر کلام کی زندگی تعلیم، سائنسی فکر، نظم و ضبط، سادگی اور تعمیرِ وطن کے لیے لگن کا پیغام دیتی ہے۔ آج نئی نسل کو جدید علم، ٹیکنالوجی اور سائنسی نقط? نظر کے ساتھ اپنی ثقافتی جڑوں، روحانی روایات اور اخلاقی اقدار سے روشناس کرانا بھی ضروری ہے۔
آل انڈیا درگاہ کمیٹی کی اس پہل کا مقصد مختلف مذہبی اور روحانی روایات کے درمیان بامعنی مکالمے کو فروغ دینا اور نئی نسل کو سچائی، ہمدردی، خدمت، رواداری، انصاف اور باہمی احترام جیسی اقدار سے جوڑنا ہے۔
جمال صدیقی نے نئی نسل اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ہندوستانی تہذیب کی روحانی جڑوں اور اخلاقی وراثت کو سمجھیں اور ان اقدار کو اپنی زندگی میں اپنائیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید سائنسی فکر کے ساتھ ثقافت کی بہترین اخلاقی اقدار کو اختیار کرنا مثبت سماجی تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
مکالمے کے دوران مقررین نے کہا کہ مختلف مذہبی روایات کے درمیان باہمی احترام کا مطلب ان کے جداگانہ عقائد کو یکساں قرار دینا نہیں، بلکہ ان کے تنوع کا احترام کرتے ہوئے مشترکہ انسانی اقدار کو سمجھنا ہے۔ اس موقع پر آچاریہ پرمود کرشنم کے پیغمبر حضرت محمد ? اور مولا علی? کے تئیں احترام کا بھی ذکر کیا گیا۔
پروگرام کا پیغام تھا کہ ہندوستان کی متنوع روحانی روایات مکالمے، تعاون اور باہمی احترام کے ذریعے قومی اتحاد کو مضبوط بنا سکتی ہیں۔آل انڈیا درگاہ کمیٹی ’رِشی صوفی مکالمہ‘ مہم کے ذریعے نئی نسل کو ہندوستان کی ثقافتی جڑوں سے جوڑنے، سائنسی فکر کو فروغ دینے اور نوجوانوں میں سماجی ذمہ داری اور ہم آہنگی کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے کوششیں کرے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais