پاکستان کے بلوچستان میں تین مقامات پر فوجی قافلوں پر حملے
بلوچستان، 15 اکتوبر (ہ س)۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں منگل اور بدھ کے روز پیش آنے والے تین الگ الگ واقعات میں فوجی قافلوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ضلع ہرنائی میں ایک فوجی گاڑی پر بم حملے میں 13 اہلکاروں کے ہلاک یا زخمی ہونے کا دعویٰ کی
بوچ


بلوچستان، 15 اکتوبر (ہ س)۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں منگل اور بدھ کے روز پیش آنے والے تین الگ الگ واقعات میں فوجی قافلوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ضلع ہرنائی میں ایک فوجی گاڑی پر بم حملے میں 13 اہلکاروں کے ہلاک یا زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ وہیں، خضدار اور سوراب اضلاع میں فوجی قافلوں اور تجارتی گاڑیوں پر بھی حملے کیے گئے۔ تاہم، ان واقعات میں جانی نقصان اور املاک کو پہنچنے والے نقصان کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ پاکستانی حکام نے بھی ہرنائی میں پیش آنے والے واقعے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔

’دی بلوچستان پوسٹ‘ نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ منگل کو ضلع ہرنائی کے شہرگ علاقے میں ساجو کے قریب ایک فوجی گاڑی کو دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلے (آئی ای ڈی) سے نشانہ بنایا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ دھماکے میں فوجی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اس واقعے میں 13 فوجی اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم، ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی الگ الگ تعداد کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ پاکستانی حکام کی جانب سے بھی اس واقعے کے بارے میں فوری طور پر کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔

بدھ کو بلوچستان کے ضلع خضدار میں کوئٹہ-کراچی تجارتی شاہراہ پر سانبا پل کے قریب مسلح حملہ آوروں نے تجارتی گاڑیوں کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا۔ مقامی ذرائع کے مطابق، اس قافلے کے ساتھ پاکستانی سکیورٹی اہلکار بھی موجود تھے۔ بتایا جارہا ہے کہ حملہ آوروں نے ایندھن کے ٹینکروں، کنٹینر ٹرکوں اور دیگر گاڑیوں پر راکٹوں اور دوسرے ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ علاقے میں کافی دیر تک فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔

ذرائع نے دعویٰ کیا کہ حملے میں بعض تجارتی گاڑیاں تباہ ہو گئیں اور پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں کو بھی نقصان پہنچا۔ تاہم، نقصان کی اصل نوعیت اور ہلاک و زخمی ہونے والوں کی تعداد کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

ایک اور واقعے میں بدھ کو ضلع سوراب کے حاجیکہ علاقے میں پاکستانی فوجی قافلے پر حملہ کیا گیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق، حملہ آوروں نے پہلے دھماکے کے ذریعے ایک فوجی گاڑی کو نشانہ بنایا اور اس کے بعد قافلے پر مسلح حملہ کیا۔ اس واقعے میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔ نقصان کی تفصیلات بھی سامنے نہیں آ سکیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande