
نئی دہلی، 15 اکتوبر(ہ س )۔
عام آدمی پارٹی کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے رام کو مارنے سے متعلق بیان والے ویڈیو کو اے آئی (مصنوعی ذہانت) سے تیار کردہ بتانے والی دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا کو ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کرنے کا چیلنج دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹ بولنے والے کی ایک نہ ایک دن پکڑ ہوتی ہے۔ اگر سوشل میڈیا پر میری جانب سے پوسٹ کیا گیا ویڈیو اے آئی سے تیار کیا گیا ہے تو وزیراعلیٰ ریکھا گپتا بھی اپنے وزیر پرویش ورما کی طرح مجھ پر ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کرکے دیکھ لیں۔ جس طرح پرویش ورما کا جھوٹ عدالت میں پکڑا گیا، اسی طرح وزیراعلیٰ کا جھوٹ بھی بے نقاب ہوجائے گا۔ رام کو مارنے کا بیان دے کر ہندو ں سے معافی مانگنے کے بجائے وزیراعلیٰ جھوٹ بول کر لوگوں کو بے وقوف نہیں بنا سکتیں۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ ریکھا گپتا اتنا بڑا جھوٹ بول رہی ہیں کہ جو ویڈیو بالکل اصلی ہے اور وہ خود بھی اس حقیقت سے واقف ہیں، اسے اپنے دل میں چور ہونے کی وجہ سے پہلے تو انہوں نے رام لیلا کے یوٹیوب چینل سے ہٹوا دیا اور اب اسے اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو قرار دے رہی ہیں۔ ریکھا گپتا پوری طرح جھوٹ بول رہی ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو وہ بھی اپنے وزیر پرویش ورما کی طرح ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کرکے اس کا سامنا کریں اور عدالت میں اسی طرح منہ کی کھائیں، جس طرح ان کے وزیر کو کھانی پڑی۔ وہ میدان میں آئیں۔ آخر اس میں کیا دقت ہے؟ انہیں سامنے آکر مقابلہ کرنا چاہیے۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ بھگوان رام کے بارے میں ریکھا گپتا نے جو کچھ کہا ہے، اس کے لیے اب بھی ان کے پاس وقت ہے کہ وہ معافی مانگ لیں۔ اگر وہ ویڈیو اے آئی سے تیار کیا گیا ہے اور ہم نے اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو پوسٹ کیا ہے تو وہ ہمارے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کریں۔ جس طرح وزیر پرویش ورما ہتکِ عزت کے مقدمے کا مزہ چکھ چکے ہیں، اسی طرح ریکھا گپتا کو بھی اس کا مزہ چکھا دیں گے۔ وہ بھی ایسا کرکے دیکھ لیں اور عدالت کے میدان میں آئیں۔ ہم عدالت میں ثابت کردیں گے کہ ہم نے جو کچھ بتایا ہے، وہ سچ ہے۔ ریکھا گپتا لوگوں کو بے وقوف نہ بنائیں۔سوربھ بھاردواج نے یاد دلایا کہ جب ریکھا گپتا نے ایک سرکاری پروگرام میں مودی مودی کے نعرے لگائے تو طلبہ نے ان کا مذاق اڑایا۔ انسٹاگرام پر ایک ریل وائرل ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ جس ڈانڈیا پروگرام میں درگا ماتا کے جے جے کار کے نعرے لگنے چاہئیں، وہاں وہ مودی مودی کے نعرے لگوا رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ بننے کے بعد انہوں نے بنگالیوں کو بلاکر کہنا شروع کردیا کہ جہاں درگا پوجا کے موقع پر ماتا کی مورتی نصب کی جائے، وہاں مودی جی کی تصویر بھی لگا دی جائے۔سوربھ بھاردواج نے بتایا کہ اس وقت عام آدمی پارٹی نے اس کی مخالفت کی تھی۔ ہم نے کہا تھا کہ وزیراعلیٰ کا دماغ خراب ہوگیا ہے، درگا پوجا میں ماتا کی پوجا کی جائے گی یا مودی جی کی؟ اس کے باوجود وہ کہہ رہی ہیں کہ تصویر کو ماتا کے قدموں میں رکھ دو۔ ماتا درگا کے قدموں میں تو مہیشاسور ہوتا ہے۔ کیا وہ مودی جی کو مہیشاسور بتا رہی ہیں؟ ریکھا گپتا بغیر سوچے سمجھے بولنا بند کریں اور کام پر توجہ دیں۔ ان کی ناک کے نیچے کروڑوں روپے کا بدعنوانی کا معاملہ چل رہا ہے۔ اگر ان میں ذرا بھی ہمت ہے تو اپنے اندر ایک بااختیار وزیراعلیٰ پیدا کریں اور ان معاملات میں کوئی کارروائی کرکے دکھائیں۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ ریکھا گپتا کے تمام کام ہم دیکھ چکے ہیں۔ ان کی حکومت میں چاول گھوٹالہ، سائیکل گھوٹالہ اور 700 کروڑ روپے کا صحت گھوٹالہ سامنے آیا ہے۔ کھلے عام گھوٹالے ہورہے ہیں، لیکن پولیس نے اب تک کوئی کارروائی نہیں کی۔ جس سائیکل کو ہم نے 4,000 روپے میں خریدا تھا، ریکھا گپتا کی حکومت اسی سائیکل کو 7,000 روپے میں خرید رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais