
نئی دہلی، 14 اکتوبر (ہ س)۔
سپریم کورٹ نے کرناٹک کے شرنگیری اسمبلی حلقے میں 2023 کے انتخابات کی ووٹوں کی گنتی سے متعلق ایک معاملے میں الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کو سخت پھٹکار لگائی ہے۔ عدالت نے اصل گنتی کی ویڈیو غائب ہونے کے کمیشن کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ”لچر بہانہ“ قرار دیا۔ جسٹس سنجے کمار کی سربراہی والی بنچ نے اس معاملے میں سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اہم تبصرے کیے اور ہدایات جاری کیں۔ معاملے کی اگلی سماعت 15 فروری 2027 کو ہوگی۔
سماعت کے دوران عدالت نے الیکشن کمیشن کو واضح انتباہ دیا کہ اگر وہ اگلی سماعت پر انتخابات سے متعلق دستیاب ریکارڈ عدالت میں پیش کرنے میں ناکام رہا تو اس کے خلاف منفی نتیجہ اخذ کیا جائے گا۔
یہ تنازع 2023 کے کرناٹک اسمبلی انتخابات میں شرنگیری سیٹ سے کانگریس کے امیدوار ٹی ڈی راجے گوڑا اور بی جے پی کے ڈی این جیوراج کے درمیان مقابلے سے متعلق ہے۔ راجے گوڑا نے یہ انتخاب محض 201 ووٹوں کے فرق سے جیتا تھا، جسے جیوراج نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
اپریل 2026 میں کرناٹک ہائی کورٹ کے حکم کے بعد مئی 2026 میں پوسٹل بیلٹ کی دوبارہ گنتی کی گئی۔ اس گنتی میں راجے گوڑا کے ووٹ کم ہوگئے اور جیوراج کو فاتح قرار دے دیا گیا۔ راجے گوڑا نے دوبارہ گنتی کے اس عمل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ اپنی عرضی میں انہوں نے دلیل دی کہ ہائی کورٹ نے صرف 279 مسترد شدہ پوسٹل بیلٹ کی دوبارہ جانچ کا حکم دیا تھا، لیکن ریٹرننگ افسر نے غیر قانونی طور پر 562 درست پوسٹل بیلٹ پر بھی دوبارہ غور کیا، جو راجے گوڑا کے حق میں تھے۔
انتخابی بے ضابطگی کی جانچ اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سپریم کورٹ نے 2023 میں ہونے والی اصل گنتی اور دوبارہ گنتی کی ویڈیو ریکارڈنگ طلب کی تھی۔ الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ مئی 2026 میں ہونے والی دوبارہ گنتی کی ویڈیو محفوظ ہے، لیکن 2023 کی اصل گنتی کی ویڈیو نہیں مل رہی۔ کمیشن کے اسی دعوے پر عدالت نے گہری ناراضی ظاہر کی ہے۔
فی الحال، سپریم کورٹ کے مئی 2026 کے عبوری حکم کے مطابق عرضی زیر التوا رہنے تک ٹی ڈی راجے گوڑا رکن اسمبلی کے عہدے پر برقرار ہیں۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کو اگلی سماعت میں تمام متعلقہ ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ