
واشنگٹن، 14 اکتوبر (ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یونان میں امریکی سفیر کمبرلی گلفائل کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ گلفائل پر ایک ریپبلکن چندہ دہندہ سے مبینہ طور پر ایک لاکھ ڈالر مانگنے، امریکی انتظامیہ تک رسائی دلانے کا وعدہ کرنے اور امریکی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی خریداری کے سلسلے میں یونان کی حکومت پر دباو ڈالنے جیسے سنگین الزامات عائد ہوئے ہیں۔ تاہم، گلفائل نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے اپنی ساکھ کا دفاع کرنے کی بات کہی ہے۔
روس کے بین الاقوامی نیوز ٹیلی ویژن نیٹ ورک ’رشیا ٹوڈے‘ (آر ٹی) کے مطابق، وائٹ ہاوس کی پریس سکریٹری کیٹی زکاریا نے منگل کو صحافیوں کو بتایا کہ انتظامیہ نے گلفائل سے استعفیٰ دینے کے لیے کہا ہے۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد صدر ٹرمپ نے بھی اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سفیر اچھا کام کر رہی تھیں، لیکن ان کے بارے میں سامنے آنے والی خبریں انتظامیہ کو پسند نہیں آئیں۔ کمبرلی گلفائل نے گزشتہ سال ستمبر میں یونان میں امریکی سفیر کی حیثیت سے حلف لیا تھا۔ وہ پہلے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر سے منگنی کے حوالے سے بھی سرخیوں میں رہی تھیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، گلفائل پر اپنے سفارتی عہدے کا استعمال یونان کے توانائی کے تاجر الیگزینڈروس ایکسرچو کے مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے کرنے کا الزام لگا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے بلقان خطے کی کئی حکومتوں پر ایکسرچو کے ایکٹر گروپ سے امریکی ایل این جی خریدنے کا دباو بنایا۔ الزامات کے مطابق، گلفائل نے اس تاجر کے نجی طیارے سے ڈاووس کا سفر بھی کیا تھا۔ تاہم، ان الزامات کے حوالے سے ان کی جانب سے دی گئی صفائی اور کسی آزادانہ تحقیقات کے نتائج کی تصدیق ضروری ہے۔
رپورٹ کے مطابق، مارچ میں یونان کے حکام کے ساتھ ہونے والی ایک میٹنگ کے دوران گلفائل نے مبینہ طور پر وارننگ دی تھی کہ اگر یونان کے وزیر اعظم کیریاکوس مٹسوٹاکس نے امریکی ایل این جی خریدنے سے انکار کیا تو ان کی حکومت کو گرایا جا سکتا ہے۔ یونان کے وزیر برائے توانائی اسٹاوروس پاپاسٹاورو نے بعد میں اس بات سے انکار کیا کہ گلفائل نے ان کے ملک کے خلاف کوئی دباو ڈالا یا دھمکی دی تھی۔ تاہم، رپورٹ میں کیے گئے دیگر دعووں پر صورت حال واضح نہیں ہوئی۔
گلفائل پر رومانیہ کے وزیر اعظم الی بولوجان کو عہدے سے ہٹانے میں کردار ادا کرنے کا سہرا اپنے سر باندھنے کا الزام بھی لگا۔ بتایا گیا کہ رومانیہ نے امریکہ کی حمایت یافتہ ورٹیکل گیس کوریڈور منصوبے کی حمایت کی تھی، لیکن اپنے گھریلو گیس کے ذخائر کافی ہونے کی وجہ سے اضافی امریکی ایل این جی خریدنے سے انکار کر دیا تھا۔ گلفائل سے جڑا تنازعہ اس وقت اور بڑھ گیا جب ٹرمپ کے حامی اور ریپبلکن چندہ دہندہ ایرک ڈیٹرز نے ایک امریکی میڈیا چینل کو دیے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ان سے سال 2024 میں گلفائل نے اپنا کریڈٹ کارڈ بل ادا کرنے کے لیے ایک لاکھ ڈالر مانگے تھے۔
ڈیٹرز کے مطابق، اس کے عوض انہیں ٹرمپ انتظامیہ تک رسائی دلانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس مبینہ بندوبست کو لین دین پر مبنی معاہدہ قرار دیتے ہوئے گلفائل پر سنگین الزامات لگائے۔ اس کے علاوہ، اخبار کی رپورٹ میں ایک لیک ہونے والی ریکارڈنگ کا بھی ذکر کیا گیا، جس میں گلفائل مبینہ طور پر ایک امریکی تاجر سے جنوری کے دوران ڈاووس میں عشائیے کی دعوت دلانے کے بدلے اسے کافی پیسہ کما کر دینے کی بات کہتی سنائی دیتی ہیں۔ فی الحال، ان الزامات کی آزادانہ تصدیق اور کسی باضابطہ تحقیقات کے نتائج کی تفصیلات سامنے آنا ابھی باقی ہے۔
دوسری طرف، اپنے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہوئے کمبرلی گلفائل نے اپنے خلاف لگائے گئے حالیہ الزامات کو جھوٹا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے نام، ساکھ اور ایمانداری کا مضبوطی سے دفاع کریں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ جھوٹے الزامات کو اپنی دہائیوں پر محیط عوامی خدمات کی پہچان نہیں بننے دیں گی۔
اس پورے واقعے نے امریکی انتظامیہ کی سفارتی تقرریوں، کاروباری مفادات اور سیاسی چندے سے متعلق سوالات کو پھر سے گرما دیا ہے۔ اگر عائد الزامات کی تصدیق ہوتی ہے، تو اس سے امریکی سفارتی عہدوں کے استعمال اور غیر ملکی توانائی کے سودوں پر امریکی دباو کے سلسلے میں سنگین سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن