پولیس حراست میں طلبہ پر تشدد کے الزامات، راہل گاندھی نے متاثرہ مظاہرین کو میڈیا کے سامنے پیش کیا
نئی دہلی، 14 اکتوبر (ہ س)۔ کانگریس کے سابق قومی صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے اعلی انتخابی کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے دوران حراست میں لیے گئے طلبہ کے ساتھ مبینہ مارپیٹ کا معاملہ اٹھایا ہے۔ راہل گاندھی نے بدھ کے روز بع
RAHUL-PRESS-CONFERENCE-POLICE-


نئی دہلی، 14 اکتوبر (ہ س)۔ کانگریس کے سابق قومی صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے اعلی انتخابی کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے دوران حراست میں لیے گئے طلبہ کے ساتھ مبینہ مارپیٹ کا معاملہ اٹھایا ہے۔ راہل گاندھی نے بدھ کے روز بعض مظاہرین کو میڈیا کے سامنے پیش کیا، جنہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس حراست کے دوران ان کے ساتھ مارپیٹ اور بدسلوکی کی گئی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ مظاہرین اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی ویڈیوز اور دیگر ثبوت محفوظ رکھیں، تاکہ اس معاملے میں ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ احتجاج میں شامل طلبہ، نوجوان اور دیگر افراد مختلف برادریوں اور طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن ان سب کی آواز ایک ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر اعظم نریندر مودی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو مظاہرین کی آواز کے خلاف کھڑا نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دستیاب تمام ثبوتوں کی مدد سے مارپیٹ کے ذمہ دار افراد کو جواب دہ ٹھہرانے کی کوشش کی جائے گی۔

کیرالا کی طالبہ اتھیرا نے پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا کہ حراست کے دوران جب انہوں نے بس میں خاتون پولیس اہلکار کی موجودگی کے بارے میں سوال کیا تو ان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کناٹ پلیس تھانے کے سامنے انہیں پیٹا گیا، جس کے باعث ان کی آنکھ اور کان میں چوٹ آئی۔ اتھیرا کے مطابق، اب انہیں ایک کان سے سنائی دینا بند ہو گیا ہے۔

بانسری نواز سمر نے بھی پولیس حراست میں مارپیٹ کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں 5 اکتوبر اور پھر 11 اکتوبر کو حراست میں لیا گیا تھا۔ سمر کے مطابق، سادہ لباس میں موجود پولیس اہلکاروں نے ان کے ساتھ مارپیٹ کی۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ مظاہرین کو لاٹھیوں اور پتھروں سے دھمکایا گیا۔ پریس کانفرنس کے دوران سمر نے بانسری پر بھجن ”ویشنو جن تو تینے کہیے“ کی دھن بجائی۔ راہل گاندھی نے اسے احتجاج کے جواب میں ایک علامتی اظہار کے طور پر پیش کیا۔

راہل گاندھی نے نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کی ایک خاتون عہدیدار کو بھی صحافیوں کے سامنے پیش کیا۔ خاتون نے الزام لگایا کہ حراست کے دوران انہیں گھسیٹ کر کناٹ پلیس تھانے لے جایا گیا، جہاں ایک کمرے میں ان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔ انہوں نے دعویٰ ہے کہ اس واقعے کے بعد ان کی ٹانگوں پر نیلے نشانات پڑ گئے۔ راہل گاندھی نے انہیں ”شیرنی“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مبینہ تشدد کے باوجود انہوں نے خوف زدہ ہونے سے انکار کیا۔

ایک دیگر طالب علم نے الزام لگایا کہ پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے سے دہلی گیٹ لے جاتے وقت پولیس کی گاڑی میں اس کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔ طالب علم نے پولیس اہلکاروں پر گالیاں دینے اور دھمکانے کا الزام بھی لگایا۔ اس نے کہا کہ تہاڑ جیل منتقل کیے جانے کے وقت اسے شدید چوٹیں آئی تھیں اور وہ بے ہوشی کی حالت میں تھا۔ طالب علم نے اس معاملے کی تحقیقات کرکے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

قابل ذکر ہے کہ راہل گاندھی نے اس سے قبل بدھ کی صبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے رہنماو¿ں سورو داس اور آشوتوش رانکا کو پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیجے جانے کی مذمت کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ جنتر منتر پر پرامن احتجاج کے دوران ترنگا لہرانا کوئی جرم نہیں ہے اور اس کے لیے نوجوانوں کو جیل بھیجنا بزدلی ہے۔ انہوں نے طلبہ، نوجوانوں، صحافیوں اور اپوزیشن جماعتوں کی تحریکوں کو شہریوں کے آئینی حقوق سے متعلق قرار دیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande