انکتا قتل معاملے میں وی وی آئی پی کے کردار کی غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ، کانگریس کا خاموش دھرنا
دہرادون، 13 اکتوبر (ہ س)۔ انکتا بھنڈاری قتل معاملے میں مبینہ وی وی آئی پی کے کردار پر اٹھ رہے سوالات اور اس معاملے میں الزامات کا سامنا کرنے والے بی جے پی رہنما دشینت کمار گوتم کو سکم کا گورنر مقرر کیے جانے کے خلاف اتراکھنڈ پردیش کانگریس کمیٹی نے م
Uk-VVIP-Ankita-murder-case


دہرادون، 13 اکتوبر (ہ س)۔ انکتا بھنڈاری قتل معاملے میں مبینہ وی وی آئی پی کے کردار پر اٹھ رہے سوالات اور اس معاملے میں الزامات کا سامنا کرنے والے بی جے پی رہنما دشینت کمار گوتم کو سکم کا گورنر مقرر کیے جانے کے خلاف اتراکھنڈ پردیش کانگریس کمیٹی نے منگل کو گاندھی پارک میں مون ورت( خاموش احتجاج) کیا۔

پردیش کانگریس صدر گنیش گودیال کی قیادت میں دہرادون کے تاریخی گاندھی پارک میں خاموش احتجاج اور ستیہ گرہ کا اہتمام کیا گیا۔ کانگریس عہدیداروں اور کارکنوں نے خاموش احتجاج کرتے ہوئے انکتا بھنڈاری کو انصاف دلانے اور قتل معاملے میں مبینہ وی وی آئی پی کے کردار کی سی بی آئی جانچ میں تیزی لانے کا مطالبہ کیا۔

ستیہ گرہ سے پہلے پردیش کانگریس صدر نے کہا کہ انکتا بھنڈاری کا قتل محض ایک لڑکی کے قتل کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ اتراکھنڈ کی شناخت، خواتین کے احترام اور ریاست کی نظم و قانون کی صورت حال سے جڑا ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قتل نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا، لیکن افسوس کی بات ہے کہ اتنا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود مبینہ وی وی آئی پی کے کردار سے متعلق سوالات کے تسلی بخش جواب عوام کو نہیں مل سکے ہیں۔

گودیال نے کہا کہ انکتا بھنڈاری قتل معاملے میں جس وی وی آئی پی کے کردار پر مسلسل سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں، ان الزامات کی غیر جانبدارانہ جانچ سی بی آئی سے کرانے کا اعلان حکومت نے کیا تھا، لیکن اس معاملے میں سی بی آئی کی جانچ ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ پائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قتل معاملے میں وی وی آئی پی سے متعلق حقیقت عوام کے سامنے لانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی رہنما دشینت کمار گوتم کو سکم جیسی آئینی اہمیت کی حامل ریاست کا گورنر مقرر کیے جانے کے فیصلے نے ریاست کے لوگوں کے ذہنوں میں کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی شخص کے خلاف لگائے گئے الزامات کی سچائی کا تعین غیر جانبدارانہ جانچ اور عدالتی کارروائی کے ذریعے ہی ہونا چاہیے، تاہم سنگین الزامات اور عوامی سطح پر اٹھنے والے سوالات کا جواب دینا بھی حکومت کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔

گودیال نے کہا کہ جمہوریت میں آئینی عہدوں کا وقار سب سے اہم ہوتا ہے اور ایسے عہدوں پر تقرری کے وقت عوامی زندگی میں شفافیت اور اخلاقیات کے اعلیٰ ترین معیاروں کی پابندی کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دشینت کمار گوتم کو گورنر مقرر کیے جانے سے متعلق اٹھنے والے سوالات کا مرکزی حکومت کو واضح جواب دینا چاہیے، تاکہ ریاست کے لوگوں کے ذہنوں میں کسی طرح کا شبہ باقی نہ رہے۔

خاموش احتجاج میںریاست کے جنرل سکریٹری (تنظیم) راجندر بھنڈاری، نائب صدر اور میڈیا چیئرمین راجیو مہارشی، لال چند شرما، سابق قومی ترجمان آلوک شرما، جنرل سکریٹری اشونی بہوگنا، راجندر شاہ، سریندر رنگڑ، خزانچی گوداوری تھپلی، سجاتا پال، جیندر رومولا، نوین جوشی، یعقوب صدیقی، نیرج تیاگی، سوشل میڈیا چیئرمین ابھینو تھاپر،سکریٹری امیندر بشٹ، یشپال چوہان، اوم پرکاش ستی، ترجمان ڈاکٹر پرتیما سنگھ، گریما دسونی، سونیا آنند، شیش پال بشٹ، میٹروپولیٹن صدر جسوندر سنگھ گوگی، ضلعی صدر سنجے کشور، سومندر بورا، سنجے کنوجیا اور کنور سجوان سمیت دیگر رہنما اور کارکن شریک ہوئے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande