سپریم کورٹ نے راہل گاندھی کے خلاف مجرمانہ ہتک عزت کے مقدمے کی کارروائی پر لگائی روک
نئی دہلی، 13 اکتوبر(ہ س)۔ سپریم کورٹ نے کانگریس رہنما راہل گاندھی کے خلاف مجرمانہ ہتک عزت کے معاملے میں عدالتی کارروائی پر عارضی طور پر روک لگا دی ہے۔ جسٹس وکرم ناتھ کی سربراہی والی بنچ نے یہ حکم دیا۔ راہل گاندھی پر الزام ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم ن
سپریم کورٹ نے راہل گاندھی کے خلاف مجرمانہ ہتک عزت کے مقدمے کی کارروائی پر لگائی روک


نئی دہلی، 13 اکتوبر(ہ س)۔ سپریم کورٹ نے کانگریس رہنما راہل گاندھی کے خلاف مجرمانہ ہتک عزت کے معاملے میں عدالتی کارروائی پر عارضی طور پر روک لگا دی ہے۔ جسٹس وکرم ناتھ کی سربراہی والی بنچ نے یہ حکم دیا۔ راہل گاندھی پر الزام ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ’’چوروں کا سردار‘‘ اور ’’کمانڈر اِن تھیف‘‘ کہا تھا۔

عدالت نے مہاراشٹر حکومت اور شکایت کنندہ ایم ایچ شری شریمل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے چار ہفتوں کے اندر جواب طلب کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ میں اس معاملے کی مزید کارروائی پر بھی روک لگا دی ہے۔

سپریم کورٹ نے یہ حکم بامبے ہائی کورٹ کے 8 ستمبر کے فیصلے کے خلاف راہل گاندھی کی درخواست پر دیا ہے۔ بامبے ہائی کورٹ نے راہل گاندھی کو جاری سمن منسوخ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔دراصل، ممبئی کے گورے گاؤں میٹروپولیٹن مجسٹریٹ نے 28 اگست 2019 کو اس معاملے میں قانونی کارروائی شروع کرتے ہوئے راہل گاندھی کو سمن جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔ بی جے پی کارکن مہیش شری شریمل نے عدالت میں مجرمانہ ہتک عزت کی شکایت درج کرائی تھی۔

شکایت کنندہ کا الزام تھا کہ راہل گاندھی نے ستمبر 2018 میں راجستھان کی ایک انتخابی ریلی کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف جو تبصرے کیے تھے، ان سے نہ صرف وزیر اعظم بلکہ بی جے پی کے دیگر ارکان اور ان سے وابستہ شہریوں کی بھی ہتک ہوئی تھی۔راہل گاندھی نے مجسٹریٹ عدالت کے حکم اور سمن کو منسوخ کرانے کے لیے بامبے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ تاہم، ہائی کورٹ نے مجسٹریٹ عدالت کے حکم میں کوئی خامی نہ پاتے ہوئے ان کی درخواست خارج کر دی تھی۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ اس معاملے کا فیصلہ شواہد کی بنیاد پر ٹرائل کورٹ میں ہی کیا جانا چاہیے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande