
نئی دہلی، 13 اکتوبر (ہ س)۔سپریم کورٹ نے منگل کو دہلی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ بے انت سنگھ کے قتل کے مجرم جگتار سنگھ ہوارا کو تہاڑ جیل سے پنجاب کی کسی جیل میں منتقل کرنے کی درخواست پر انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) سے رائے لے۔ جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس پی بی ورالے پر مشتمل بنچ نے اس معاملے کی سماعت کی اور اگلی سماعت چار ہفتے بعد مقرر کی۔
سماعت کے دوران ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایشوریہ بھاٹی نے عدالت کو بتایا کہ ہوارا جیل سے فرار ہونے کے واقعے میں ملوث رہا ہے اور اس کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اسے دوسری جیل میں منتقل کرنے سے اس کے فرار ہونے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے زیادہ خطرے والے قیدیوں کی منتقلی سے متعلق مرکزی وزارت داخلہ کی ہدایات کا بھی حوالہ دیا۔
ہوارا کے وکیل نے عدالت میں دلیل دی کہ اس کی 82 سالہ والدہ کی حالت تشویش ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہوارا رہائی کا مطالبہ نہیں کر رہا، بلکہ اسے پنجاب کی کسی ہائی سکیورٹی جیل میں منتقل کرنے کی درخواست کر رہا ہے۔ ہوارا کا تعلق پنجاب کے ضلع فتح گڑھ صاحب سے ہے، اس لیے اسے پنجاب کی جیل میں منتقل کیا جانا چاہیے۔
اس معاملے پر عدالت نے کہا کہ جب کسی شخص کا کوئی نظریہ ہوتا ہے تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کب اور کس طرح سامنے آئے گا۔ ممکن ہے کہ ہوارا کے رویے میں تبدیلی آئے اور وہ سدھر جائے، لیکن اس کے بعد کون سی بات اسے دوبارہ اُکسا سکتی ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ پنجاب حکومت کے اعتراضات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔گزشتہ سال 27 ستمبر کو سپریم کورٹ نے ہوارا کی درخواست پر مرکزی حکومت، چنڈی گڑھ انتظامیہ اور دہلی و پنجاب کی حکومتوں کو نوٹس جاری کیے تھے۔
واضح رہے کہ ہوارا چنڈی گڑھ میں سول سیکریٹریٹ کے داخلی دروازے پر 31 اگست 1995 کو ہونے والے بم دھماکے سے متعلق معاملے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔ اس دھماکے میں پنجاب کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ بے انت سنگھ اور 16 دیگر افراد ہلاک ہوئے تھے۔مارچ 2007 میں نچلی عدالت نے ہوارا کو سزائے موت سنائی تھی، تاہم اکتوبر 2010 میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے اس سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan