
چنڈی گڑھ، 13 اکتوبر(ہ س)۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ(ای ڈی) نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان کے او ایس ڈی راج بیر گھمن کے خلاف جالندھر میں ایف آئی آر درج کی ہے۔ اس سے ایک دن پہلے ہی سپریم کورٹ نے سی بی آئی کی ایف آئی آر کے معاملے میں راج بیر گھمن کی گرفتاری اور کسی بھی سخت تادیبی کارروائی پر عبوری روک لگا دی تھی۔ سپریم کورٹ سے راحت ملنے کے بعد اب ای ڈی نے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔
ای ڈی کی اس کارروائی سے معاملے کی تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوگیا ہے۔ اس معاملے کو لے کر پنجاب کی سیاست میں بھی سرگرمیاں تیز ہونے کا امکان ہے۔ اب سب کی نظریں ای ڈی کی آئندہ کارروائی اور سپریم کورٹ میں ہونے والی اگلی سماعت پر مرکوز ہیں۔ای ڈی نے اگست میں پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس گورو یادو کو تین خطوط بھیج کر وزیر اعلیٰ کے دفتر سے وابستہ مبینہ بدعنوانی کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان الزامات میں تبادلوں اور تعیناتیوں، پالیسی فیصلوں، ٹینڈروں، زمین کے استعمال میں تبدیلی(سی ایل یو) اور دیگر سرکاری منظوریوں میں مبینہ مداخلت شامل ہے۔
ای ڈی کے مطابق، اس معاملے میں نتن گوہل، راج بیر سنگھ گھمن اور دیگر افراد کے کردار کا ذکر سامنے آیا ہے۔ ایجنسی نے گوہل کو سرکاری کام کروانے کے خواہش مند افراد اور وزیر اعلیٰ کے او ایس ڈی گھمن کے درمیان مبینہ طور پر ایک واسطہ کار قرار دیا ہے۔اس معاملے میں سی بی آئی پہلے ہی راج بیر گھمن کے خلاف مقدمہ درج کر چکی ہے۔ 12 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے گھمن کو بڑی راحت دیتے ہوئے حکم دیا تھا کہ سی بی آئی کی درج کردہ ایف آئی آر کے تحت ان کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہ کی جائے۔ تاہم، اب ای ڈی کی جانب سے ایف آئی آر درج کیے جانے کے بعد معاملے میں نئی پیش رفت ہوئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan