

نئی دہلی، 13 اکتوبر (ہ س)۔ دہلی کے تاریخی احتجاجی مقام جنتر منتر کو مظاہروں کے لیے مقررہ مقامات کی فہرست سے خارج کیے جانے کے 24 گھنٹے کے اندر منگل کو بھی وہاں احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ دہلی پولیس کی سخت حفاظتی نگرانی اوربیریکیڈس کو چکمادے کر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اور نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کے کارکن جنتر منتر اور کناٹ پلیس کے علاقوں میں پہنچ گئے۔
اس دوران مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی اور دھکامکی ہوئی۔ پولیس نے سی جے پی کے ترجمانوں اور این ایس یو آئی کے قومی صدر سمیت کئی کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ ادھر جنتر منتر پر پابندی کے فیصلے کو لے کر دہلی ہائی کورٹ میں بھی قانونی کارروائی تیز ہو گئی ہے۔
سی جے پی کے قومی ترجمان آشوتوش رانکا اور سورو داس کی قیادت میں پارٹی کارکنوں نے منگل کی صبح حفاظتی انتظامات کو عبور کرتے ہوئے جنتر منتر کے مرکزی لوہے کے گیٹ اور بیریکیڈز کو پھلانگ کر احاطے میں داخل ہو گئے۔ کارکنوں نے وہاں ترنگا لہراتے ہوئے ’بھارت ماتا کی جے‘ اور ’انقلاب زندہ باد‘ کے نعرے لگائے۔
سی جے پی کے سربراہ ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کارکنوں نے جنتر منتر پر دوبارہ اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی عدالت نے ان رہنماؤں کو 50 ہزار روپے کے مچلکے پر ایک سال تک امن و امان برقرار رکھنے اور اچھے برتاو¿ کی شرط کے ساتھ ضمانت دی تھی۔ اس کے باوجود کارکنوں نے احتجاج کیا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آشوتوش رانکا، سورَو داس اور دیگر کارکنوں کو حراست میں لے کر تھانے بھیج دیا۔
دوسری جانب کانگریس کی طلبہ تنظیم این ایس یو آئی نے راجیو چوک اور کناٹ پلیس کے قریب اچانک احتجاج شروع کر دیا۔ این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جھاکھڑ کی قیادت میں کارکنوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے، ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران مبینہ طور پر ووٹوں کی چوری اور جنتر منتر کو دوبارہ احتجاجی مقام کے طور پر بحال کرنے کے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے کئی کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ اس دوران این ایس یو آئی نے دہلی پولیس پر پرامن طلبہ اور خواتین کارکنوں کے ساتھ مارپیٹ اور بدسلوکی کے سنگین الزامات عائد کیے۔ تنظیم نے کہا کہ جمہوری آوازوں کو دبانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی اور اس کی جدوجہد جاری رہے گی۔
مرکزی وزارت داخلہ کی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کی سفارش پر دہلی پولیس نے 12 اکتوبر کو ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے خارج کر دیا تھا۔ نئے انتظام کے تحت دہلی میں دھرنے اور مظاہروں کے لیے تین متبادل مقامات مقرر کیے گئے ہیں۔ ان میں رام لیلا میدان، براڑی میدان اور مشرقی دہلی کا سی بی ڈی گراؤنڈ شامل ہیں۔
ہائی سکیورٹی زون میں واقع جنتر منتر کئی دہائیوں سے ملک کی اہم سیاسی اور سماجی تحریکوں کا مرکز رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں اپوزیشن جماعتوں اور طلبہ تنظیموں کی جانب سے الیکشن کمیشن کے خلاف مسلسل احتجاج کے درمیان انتظامیہ نے یہ سخت قدم اٹھایا۔
جنتر منتر پر پابندی اور نئے ضابطوں کا معاملہ دہلی ہائی کورٹ بھی پہنچ گیا ہے۔ مقامی تاجروں نے سپریم کورٹ کے ’امیت ساہنی بنام کمشنر‘ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے دلیل دی ہے کہ مسلسل مظاہروں سے ان کے کاروبار کو نقصان پہنچ رہا ہے، جبکہ این ایس یو آئی کے صدر ونود جھاکھڑ نے پابندی کے خلاف عرضی دائر کی ہے۔ عدالت ان عرضیوں پر سماعت کرے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد