گیانیش کمار کا استعفیٰ ہمارا مشن، ایک دو سال بھی لگ جائیں تو تحریک جاری رہے گی: راہل گاندھی
نئی دہلی، 13 اکتوبر(ہ س)۔ ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) اور مبینہ ووٹ چوری کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے منگل کے روز لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی رہائش
گیانیش کمار کا استعفیٰ ہمارا مشن، ایک دو سال بھی لگ جائیں تو تحریک جاری رہے گی: راہل گاندھی


نئی دہلی، 13 اکتوبر(ہ س)۔ ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) اور مبینہ ووٹ چوری کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے منگل کے روز لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی رہائش گاہ پر میٹنگ کی۔ تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والی اس میٹنگ کے بعد اپوزیشن رہنما ایک ساتھ باہر آئے اور مشترکہ طور پر میڈیا سے خطاب کیا۔

راہل گاندھی نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ اپوزیشن کا مشن ہے۔ اس میں ایک دن، ایک سال یا دو سال بھی لگ جائیں، تب بھی تحریک جاری رہے گی۔ اپوزیشن جمہوری عمل کی بحالی کے لیے آخری دم تک جدوجہد کرے گی۔

میٹنگ میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی، راہل گاندھی، ششی تھرور، کے سریش اور سپریا سولے سمیت مختلف اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ راشٹریہ جنتا دل کے تیجسوی یادو اور منوج جھا، جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی مہوا ماجی، سماجوادی پارٹی کے ہریندر ملک، آنند بھدوریا اور محب اللہ ندوی، مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے ایم اے بی بی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے ڈی راجہ اور پی سنتوش کمار، سی پی آئی (ایم ایل) کے دیپانکر بھٹاچاریہ اور ترنمول کانگریس کی مہوا موئترا بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ میٹنگ میں ایس آئی آر کے خلاف تحریک اور آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

راہل گاندھی نے کہا کہ حکومت نے یہ طے کرلیا ہے کہ جنتر منتر کو جمہوری طریقے سے اپنی بات رکھنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ اپوزیشن حکومت کی اس سوچ کو چیلنج کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئین کو نقصان پہنچانے والوں کے لیے جواب دہی سے بچنا آسان نہیں ہوگا اور ایسے لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ ملک میں جمہوریت اور انتخابی نظام کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی اپوزیشن جماعتوں کے لیے نہیں، بلکہ ملک کے عوام اور ان کے مستقبل کے لیے ہے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں جس توانائی، طاقت اور اتحاد کے ساتھ تحریک چلا رہی ہیں، اسی جذبے کے ساتھ آگے بھی جدوجہد جاری رکھیں گی۔ کوئی ادارہ اپنا کردار ادا کرے یا نہ کرے، سیاسی مخالفت اور عوام کی جدوجہد جاری رہے گی۔ اپوزیشن اپنے مقصد کے حصول تک تحریک جاری رکھے گی۔

شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے انہیں ’مافیا‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ انتخابی نظام کو مجرمانہ رنگ دے دیا گیا ہے۔راوت نے کہا کہ راہل گاندھی کی قیادت میں ایس آئی آر کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی۔ یہ لڑائی صرف دہلی تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ ریاستوں اور ملک کے دوسرے شہروں میں بھی لڑی جائے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن جماعتیں اس معاملے پر متحد ہیں اور آئندہ بھی مل کر جدوجہد کریں گی۔آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو نے الزام لگایا کہ گیانیش کمار نے جمہوریت کو کچلنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے لیے انہوں نے بی جے پی، وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ تیجسوی یادو نے کہا کہ اپوزیشن جمہوریت کے تحفظ کے لیے متحد ہے اور اس مقصد کے لیے ہر طرح کی جدوجہد کرنے کو تیار ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ آئینی اداروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور الیکشن کمیشن کے کام کاج پر بھی سوالات اٹھائے۔

مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما ایم اے بی بی نے الزام لگایا کہ بی جے پی ووٹ دینے کے حق، احتجاج کے لیے جگہ اور جمہوری نظام کو محدود کر رہی ہے۔ ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ ساگریکا گھوش نے کہا کہ ان کے مطابق گیانیش کمار کی قیادت میں الیکشن کمیشن کا کام کاج آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ قیادت کے تحت آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانا ممکن نہیں ہوگا۔

احتجاج کرنے والوں کو خاموش نہیں کیا جاسکتا: نیہا بورا

آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کی صدر نیہا بورا نے کہا کہ اگر بی جے پی یہ سمجھتی ہے کہ جمہوریت کی بنیاد پر حملہ کرنے اور لوگوں کے حق رائے دہی کے لیے سڑکوں پر اترنے پر ان کے احتجاج کا حق چھین لینے سے لوگ خاموش ہوجائیں گے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے الزام لگایا کہ دہلی میں 2 اکتوبر سے ووٹ چوری اور ایس آئی آر کے خلاف شروع ہونے والی تحریک کو پولیس کارروائی کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ احتجاج کرنا آئینی حق ہے۔

پرشانت بھوشن نے دعویٰ کیا کہ آنے والے دنوں میں کسان تنظیمیں، شہری سماج اور ٹریڈ یونینوں سمیت دیگر تنظیمیں بھی اس تحریک میں شامل ہوں گی۔

کانگریس کارکنوں کا کناؤٹ پلیس کے قریب احتجاج

اس میٹنگ سے قبل بھی دہلی میں ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔ منگل کے روز کانگریس کارکن پرچم لے کر کناؤٹ پلیس کے قریب پہنچے اور احتجاج کیا۔ پولیس نے کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔اپوزیشن جماعتیں اس سے پہلے بھی کئی دنوں تک احتجاج کرچکی ہیں۔ پیر کے روز انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے جمہوریت کے معاملے پر مارچ نکالا تھا اور ایس آئی آر و مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی بھی داخل کی تھی۔ اپوزیشن کے مطالبات میں ایس آئی آر پر روک لگانے اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ایک انگریزی اخبار کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ دس ماہ کے دوران الیکشن کمیشن کے فیصلوں اور احکامات پر کم از کم 14 مرتبہ اعتراض کیا تھا۔رپورٹ کے مطابق ان اعتراضات میں ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے، نام حذف کرنے اور بحال کرنے کے عمل، انتخابی اعداد و شمار اور سافٹ ویئر تک رسائی، نیز ایس آئی آر سے متعلق بعض فیصلے شامل تھے۔ ایک معاملے میں فارم-6 میں ایس آئی آر سے متعلق سوالات شامل کرنے پر بھی دونوں کمشنروں نے اعتراض کیا تھا۔اپوزیشن جماعتیں ان رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کے کام کاج پر سوال اٹھا رہی ہیں۔ تاہم، الیکشن کمیشن کے فیصلوں اور ایس آئی آر کے حوالے سے اپوزیشن کے الزامات پر کمیشن کا موقف مختلف ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande