درگا پوجا میں سی پی آئی (ایم) بک اسٹال لگانے پر اعتراض کیوں؟ کلکتہ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سے 24 گھنٹے میں جواب طلب کیا
کولکاتا، 13 اکتوبر (ہ س)۔ درگا پوجا کے دوران نوہاٹی اور بن گاوں میں مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی ایم) کے عارضی بک اسٹال لگانے میں رکاوٹ ڈالنے کے معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ منگل کو سماعت کرتے ہوئے جسٹس سوگت بھٹاچاریہ
DURGA-PUJA-CPIM-STALL-WB


کولکاتا، 13 اکتوبر (ہ س)۔ درگا پوجا کے دوران نوہاٹی اور بن گاوں میں مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی ایم) کے عارضی بک اسٹال لگانے میں رکاوٹ ڈالنے کے معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ منگل کو سماعت کرتے ہوئے جسٹس سوگت بھٹاچاریہ کی بنچ نے ریاستی حکومت سے 24 گھنٹے کے اندر اپنا موقف واضح کرنے کو کہا۔ عدالت نے ریاستی انتظامیہ کو بدھ تک اس معاملے میں جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔

بائیں بازو کی جماعتوں کا الزام ہے کہ گزشتہ ڈھائی دہائیوں سے ان علاقوں میں درگا پوجا کے دوران سی پی آئی (ایم) کی جانب سے باقاعدگی سے بک اسٹال یا کتاب میلے کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ اس بار نہ صرف انتظامیہ نے اجازت دینے میں ٹال مٹول کی بلکہ اسی مقام پر ایک دوسری تنظیم نے عارضی ڈھانچا بھی کھڑا کر دیا۔

منگل کو سماعت کے دوران عرضی گزاروں کے وکیل شمیم احمد نے عدالت کو بتایا کہ ماضی میں ایسے کتابی اسٹال لگانے کے لیے کسی خصوصی اجازت کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ الزام ہے کہ اس سال ریاستی انتظامیہ اور پولیس نے جان بوجھ کر اجازت دینے کے معاملے کو لٹکائے رکھا۔ جب پارٹی کارکنوں نے اپنے طور پر بانس سے عارضی ڈھانچا بنانے کی کوشش کی تو ایک مخصوص تنظیم نے انہیں روک دیا اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔

ان دلائل کو سننے کے بعد جسٹس سوگت بھٹاچاریہ نے ریاستی حکومت کے وکیل سے سخت لہجے میں سوال کیا، ”وہ کتابیں فروخت کرنا چاہتے ہیں، کھانا نہیں! اس معاملے میں ریاستی حکومت کا کیا موقف ہے؟“

اس سے پہلے پیر کو عدالت نے ایک تبصرے میں مشورہ دیا تھا کہ اگر درگا پوجا کے دوران اجازت نہیں ملتی ہے تو اسٹال کو بعد میں کالی پوجا کے موقع پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، اس تجویز پر عرضی گزار کے وکیل نے فوراً ہی مقدمے سے الگ ہونے کی درخواست کر دی تھی۔

منگل کو دونوں فریقوں کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت بدھ کے لیے مقرر کر دی۔

اس تنازعے کے پس منظر میں ایک سیاسی پیش رفت بھی شامل ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ شبھیندو ادھیکاری نے حال ہی میں کمیونسٹ جماعتوں کے کتابی اسٹال کے سلسلے میں سخت ہدایت جاری کی تھی۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ اگر بائیں بازو کی جماعتیں اپنے اسٹال پر ’شاردتسو‘ کے بجائے واضح طور پر ’درگا پوجا‘ نہیں لکھیں گی تو انہیں ایک بھی اسٹال لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande