
واشنگٹن/کیف، 12 اکتوبر(ہ س)۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے روس اور یوکرین کے درمیان توانائی کی تنصیبات پر حملے روکنے سے متعلق اچانک اعلان نے سفارتی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس اعلان پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیف جنگ بندی کے لیے تیار ہے، تاہم اس پر دونوں فریقوں کو عمل کرنا ہوگا اور اس کی مؤثر ضمانتیں بھی فراہم کی جانی چاہئیں۔
ٹرمپ نے اتوار کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر دعویٰ کیا کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر کی جانب سے زیلنسکی پر دباؤ بڑھانے اور روسی توانائی کی برآمدات سے متعلق پابندیوں میں نرمی کے اقدامات پر واشنگٹن اور کیف کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو رہی ہے۔
برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ کے مطابق، زیلنسکی نے کہا کہ اگر ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوتن کے ساتھ جنگ بندی پر بات کی ہے تو اس کی تاریخ اور شرائط واضح کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین امریکی تجویز قبول کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن جنگ بندی دونوں جانب سے ہونی چاہیے۔یوکرینی صدر نے اس سے قبل روسی تیل صاف کرنے والی تنصیبات پر حملے روکنے کی امریکی تجویز پر اعتراض کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے روس کو یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے بند کرنے ہوں گے۔ زیلنسکی کے مطابق، روسی افواج نے مشرقی یوکرین کے شہر خارکیف میں تھرمل پاور پلانٹ نمبر 5 کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے بجلی، گیس اور تیل کی تنصیبات پر حملوں کا ذکر کرتے ہوئے روسی فوجی کارروائیوں پر تنقید کی۔
دوسری جانب کریملن کی طرف سے ٹرمپ کے اعلان کردہ جنگ بندی پر عمل درآمد کی واضح تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ اس صورت حال نے مجوزہ معاہدے کی نوعیت اور اس پر عمل درآمد کے امکانات کے حوالے سے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، امریکی انتظامیہ روسی ڈیزل کی برآمدات سے متعلق پابندیوں میں نرمی کو عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتیں کم کرنے کی کوششوں سے جوڑ رہی ہے۔ تاہم یوکرینی حکام کو خدشہ ہے کہ توانائی کے شعبے میں حملے روکنے کے لیے کیف پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جبکہ ماسکو سے متناسب رعایتوں کا مطالبہ نہیں کیا جا رہا۔برطانوی اخبار ’فنانشل ٹائمز‘ اور امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کی رپورٹس میں روس کو ممکنہ اقتصادی مراعات دینے اور یوکرین پر دباؤ بڑھانے سے متعلق دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔ ان میں روس کے منجمد اثاثوں اور توانائی کمپنیوں سے متعلق تجاویز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم ان اقدامات کی حتمی شرائط واضح نہیں ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق، توانائی کی تنصیبات پر حملوں میں کمی عالمی منڈیوں کو استحکام دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، لیکن اس کے لیے دونوں ممالک کی جانب سے عملی اقدامات اور قابل اعتماد ضمانتیں ضروری ہوں گی۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ کے اعلان کو باضابطہ معاہدے کی شکل دینے اور اس پر عمل درآمد کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan