
اسٹاک ہوم، 12 اکتوبر (ہ س)۔ امریکی ماہرین معاشیات رابرٹ ای ہال اور مائیکل وڈفورڈ کو سال 2026 کے لیے مشترکہ طور پر نوبل انعام برائے معاشیات سے نوازا جائے گا۔ دونوں کو ایسے معاشی ماڈل تیار کرنے کے لیے یہ اعزاز دیا جائے گا، جن سے کساد بازاری اور مہنگائی جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے بہتر پالیسیاں وضع کرنے میں مدد ملتی ہے۔
رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں اس انعام کا اعلان کیا۔ اکیڈمی کے مطابق، اس سال الفریڈ نوبل کی یاد میں معاشیات کے شعبے میں دیا جانے والا ’سویریگس رکس بینک انعام‘ امریکی نژاد معروف ماہرین معاشیات، 83 سالہ رابرٹ ای ہال اور 71 سالہ مائیکل وڈفورڈ کو مشترکہ طور پر دیا جائے گا۔
دونوں کو ایسے میکرو اکنامک، یعنی وسیع تر معاشی ماڈل تیار کرنے کے لیے اعزاز سے نوازا جائے گا، جنہوں نے دنیا بھر کے پالیسی سازوں کو معیشت کو مستحکم کرنے میں غیر معمولی مدد فراہم کی ہے۔یہ انعام 10 دسمبر کو الفریڈ نوبل کی برسی کے موقع پر منعقد ہونے والی تقریب میں دیا جائے گا۔ انعام کی مجموعی رقم 1.2 کروڑ سویڈش کرونر، یعنی تقریباً 11.47 کروڑ روپے، دونوں ماہرین کے درمیان برابر تقسیم کی جائے گی۔ اس سال اعلان کیے جانے والے نوبل انعامات میں یہ آخری انعام ہے۔
معاشیات کے نوبل انعام کا سرکاری نام ’سویریگس رکس بینک پرائز ان اکنامک سائنسز ان میموری آف الفریڈ نوبل‘ ہے۔ اسے سویڈن کے مرکزی بینک سویریگس رکس بینک نے 1968 میں قائم کیا تھا اور پہلی مرتبہ 1969 میں دیا گیا تھا۔ یہ انعام الفریڈ نوبل کی 1895 کی وصیت میں شامل پانچ اصل نوبل انعامات کا حصہ نہیں تھا، بلکہ سویڈن کے مرکزی بینک نے اسے الگ سے شروع کیا تھا۔
اب تک اس انعام کے زیادہ تر فاتحین کا تعلق امریکہ سے رہا ہے۔ تاہم، اسے حاصل کرنے والی خواتین کی تعداد اب تک صرف تین ہے۔ سال 2023 میں کلاڈیا گولڈن کو امریکہ میں اجرت اور روزگار کے شعبے میں صنفی فرق کے اثرات پر تحقیق کے لیے اس انعام سے نوازا گیا تھا۔
اس سال ممکنہ فاتحین کے حوالے سے انسٹی ٹیوٹ فار سائنٹیفک انفارمیشن نے مالیاتی پالیسی، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی معاشیات اور ارتقائی معاشی نظریے کے شعبوں میں کام کرنے والے محققین کے ناموں کا جائزہ لیا تھا۔
گزشتہ سال یہ انعام جوئل موکیر، فلپ ایگیون اور پیٹر ہاوٹ کو دیا گیا تھا۔ انہیں نئی ٹیکنالوجی اور پیداواری طریقوں کے ذریعے معاشی ترقی اور معیارِ زندگی میں بہتری سے متعلق تحقیق کے لیے اعزاز سے نوازا گیا تھا۔ ان کے کام کو ’کریئیٹو ڈسٹرکشن‘ یعنی تخلیقی انہدام کے نظریے سے جوڑا جاتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل گزشتہ ہفتے طب، طبیعیات، کیمیا، ادب اور امن کے نوبیل انعامات کا اعلان کیا گیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد