اے آئی کا نام بدل کر ’سپر انٹیلی جنس‘ رکھنے کی امریکی پہل پر روس کو تشویش
ماسکو، 12 اکتوبر (ہ س /ریا نووستی)۔ روس کے نائب وزیر خارجہ الیگزینڈر الیموف نے خبر رساں ایجنسی ریا نووستی کو بتایا کہ ماسکو کو اس بات پر تشویش ہے کہ امریکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے تصور کے لیے ’سپر انٹیلی جنس‘ کی اصطلاح استعمال کرنے کی کوشش کر رہا
RUSSIA-AMERICA-AI-SI-Technological-Dominance


ماسکو، 12 اکتوبر (ہ س /ریا نووستی)۔ روس کے نائب وزیر خارجہ الیگزینڈر الیموف نے خبر رساں ایجنسی ریا نووستی کو بتایا کہ ماسکو کو اس بات پر تشویش ہے کہ امریکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے تصور کے لیے ’سپر انٹیلی جنس‘ کی اصطلاح استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق، یہ اقدام واشنگٹن کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت وہ اپنی تکنیکی برتری مضبوط کرنا یا مصنوعی ذہانت کی دوڑ جیتنا چاہتا ہے۔

گزشتہ22 ستمبر کو اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی سے قبل اعلان کیا گیا تھا کہ واشنگٹن مصنوعی ذہانت کے متبادل کے طور پر ’سپر انٹیلی جنس‘ کی اصطلاح استعمال کرے گا۔ اس کے حق میں دلیل دی گئی تھی کہ ’آرٹیفیشل انٹیلی جنس‘ کی اصطلاح سے یہ غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ یہ ٹیکنالوجی حقیقی نہیں ہے۔ گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی انتظامیہ ان لوگوں کو دشمن تصور کرے گی جو ’سپر انٹیلی جنس‘ کے بجائے ’آرٹیفیشل انٹیلی جنس‘ کی اصطلاح استعمال کرتے رہیں گے۔

الیموف نے کہا، ”امریکی انتظامیہ کی جانب سے عام طور پر تسلیم شدہ اور واضح اصطلاحات کی جگہ ایک نئی اصطلاح رائج کرنے کی مسلسل کوششیں تشویش کا باعث ہیں۔ ہم اسے انسان کو مرکزیت دینے کے اصول سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس اصول کا مطلب یہ ہے کہ اہم فیصلوں پر انسانوں کا کنٹرول برقرار رہے اور اے آئی ٹیکنالوجی کی ترقی اور اس کا استعمال انسانیت کے فائدے کے لیے ہو۔“

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کا یہ اقدام اپنی تکنیکی برتری مضبوط کرنے یا، جیسا کہ ٹرمپ نے خود کہا ہے، مصنوعی ذہانت کی دوڑ جیتنے کی حکمت عملی کے عین مطابق ہے۔الیموف کے مطابق، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ٹیکنالوجی اور وسائل چند ممالک اور کمپنیوں تک محدود ہوتے جا رہے ہیں، غیر قانونی یک طرفہ پابندیاں عام ہو رہی ہیں اور ڈیجیٹل خلیج مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا، ”روس مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے لیے بالکل مختلف طریقہ اختیار کرتا ہے۔ اس شعبے میں ہماری رہنما ہدایات اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں پر مبنی ہیں۔ ہم ہمیشہ ممالک کی خودمختار مساوات کے احترام، ان کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت اور ٹیکنالوجی تیار کرنے والوں کی جانب سے قومی قوانین کی پابندی کی حمایت کرتے ہیں۔“

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande