مبینہ ووٹ چوری کے معاملے پر انڈیا اتحاد کا سپریم کورٹ تک مارچ
نئی دہلی، 12 اکتوبر (ہ س)۔ اپوزیشن جماعتوں کے انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے پیر کے روز مبینہ ووٹ چوری اور ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے معاملے پر نئی دہلی کے بارہ کھمبا سے سپریم کورٹ تک مارچ نکالا۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گا
احتجاج


نئی دہلی، 12 اکتوبر (ہ س)۔ اپوزیشن جماعتوں کے انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے پیر کے روز مبینہ ووٹ چوری اور ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے معاملے پر نئی دہلی کے بارہ کھمبا سے سپریم کورٹ تک مارچ نکالا۔

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی قیادت میں نکالے گئے اس مارچ میں کانگریس کی رکنِ پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو، راشٹریہ جنتا دل کے رہنما تیجسوی یادو، بائیں بازو کی جماعتوں اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے شرکت کی۔

کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے کہا کہ یہ صرف شروعات ہے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے تک تحریک جاری رہے گی۔ کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ اور سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتیں اصولی بنیادوں پر سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرنے آئی ہیں۔

سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے کہا کہ انہیں سپریم کورٹ سے انصاف ملنے کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھرنا اور تحریک جاری رہے گی۔ جمہوریت کو بچانا اپوزیشن کی ذمہ داری ہے۔

مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی ایم) کے رہنما ڈی راجا نے کہا کہ ملک بھر میں لوگوں میں ناراضگی ہے اور چیف الیکشن کمشنر کو استعفیٰ دینا چاہیے یا انہیں عہدے سے ہٹا دیا جانا چاہیے۔ مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ وہ انسانیت کے لیے انصاف مانگ رہی ہیں۔

آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (اے آئی ایس اے) کی قومی صدر نیہا بورا بھی آج کے مارچ میں شامل ہوئیں۔ کچھ اپوزیشن رہنماؤں نے کانسٹی ٹیوشن کلب میں بھی احتجاج کیا اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف نعرے لگائے۔ اس احتجاج میں رکنِ پارلیمنٹ دھرمیندر یادو، سنجے راوت، اروند ساونت، مہوا ماجی اور مہوا موئترا سمیت دیگر رہنما شامل ہوئے۔ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے تلنگانہ بھون میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج کی قیادت کی۔

دہلی میں مارچ کے پیش نظر نئی دہلی علاقے میں سکیورٹی بڑھا دی گئی تھی۔ منڈی ہاؤس سمیت متاثرہ علاقوں میں پولیس کی مناسب نفری تعینات کی گئی تھی اور ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے تھے۔

قابل ذکر ہے کہ کانگریس کی جانب سے چیف جسٹس سے ملاقات کے لیے وقت مانگا گیا تھا۔ چیف جسٹس نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے اس کے بجائے عرضی دائر کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande