نیشنل ہیرالڈ سے متعلق منی لانڈرنگ معاملے میں راہل اور سونیا گاندھی کو راحت نہیں
نئی دہلی، 12 اکتوبر (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے نیشنل ہیرالڈ سے متعلق منی لانڈرنگ کے معاملے میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے جائیدادیں ضبط کیے جانے کے خلاف راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کی عرضی خارج کر دی ہے۔ جسٹس سچن دتہ کی بنچ نے اس معاملے کی سماعت کے لیے
نیشنل ہیرالڈ سے متعلق منی لانڈرنگ معاملے میں راہل اور سونیا گاندھی کو راحت نہیں


نئی دہلی، 12 اکتوبر (ہ س)۔

دہلی ہائی کورٹ نے نیشنل ہیرالڈ سے متعلق منی لانڈرنگ کے معاملے میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے جائیدادیں ضبط کیے جانے کے خلاف راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کی عرضی خارج کر دی ہے۔ جسٹس سچن دتہ کی بنچ نے اس معاملے کی سماعت کے لیے 2 نومبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔

ٹرائل کورٹ نے 16 دسمبر 2025 کو گاندھی خاندان، ینگ انڈین اور ایسوسی ایٹڈ جرنلز لمیٹڈ (اے جے ایل) کے خلاف منی لانڈرنگ کے معاملے میں نوٹس لینے سے انکار کر دیا تھا۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے ینگ انڈین اور اے جے ایل کی جائیدادیں ضبط کی ہیں۔ ای ڈی نے ٹرائل کورٹ کے اسی حکم کو چیلنج کیا ہے۔

ٹرائل کورٹ میں سماعت کے دوران ای ڈی نے کہا تھا کہ کانگریس کو چندہ دینے والوں کے ساتھ دھوکہ دہی کی گئی۔ ای ڈی کے مطابق، چندہ دینے والوں میں سے بعض افراد کو ٹکٹ بھی دیے گئے تھے۔

ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے گاندھی خاندان کے اس مو¿قف کی مخالفت کی تھی کہ ایسوسی ایٹڈ جرنلز لمیٹڈ (اے جے ایل) پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اے جے ایل ہی بنیادی طور پر نیشنل ہیرالڈ کی ناشر کمپنی تھی۔

ای ڈی نے 15 اپریل 2025 کو ٹرائل کورٹ میں استغاثہ کی شکایت داخل کی تھی۔ اس معاملے میں ای ڈی نے کانگریس کی رہنما سونیا گاندھی، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور سیم پترودا کو ملزم نامزد کیا ہے۔ ای ڈی نے منی لانڈرنگ قانون کی دفعات 44 اور 45 کے تحت شکایت درج کرائی تھی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande