گورکھا میں بھیانک سیلاب کے پیچھے مناسلو علاقے میں برفانی تودہ گرنے کا خدشہ
کاٹھمنڈو، 11 اکتوبر (ہ س)۔ نیپال کے گورکھا ضلع میں آنے والے بھیانک سیلاب کے پیچھے مناسلو ہمالیائی علاقے میں برفانی تودہ گرنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم، ابھی اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ قومی آفات کے انتظامی ادارے نے بتایا کہ ایک مقامی شخص نے بر
نیپال


کاٹھمنڈو، 11 اکتوبر (ہ س)۔ نیپال کے گورکھا ضلع میں آنے والے بھیانک سیلاب کے پیچھے مناسلو ہمالیائی علاقے میں برفانی تودہ گرنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم، ابھی اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ قومی آفات کے انتظامی ادارے نے بتایا کہ ایک مقامی شخص نے برفانی تودہ گرنے کے بعد سیلاب آنے کی اطلاع دی ہے، لیکن اس معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔

ادارے کے ایگزیکٹیو سربراہ ڈاکٹر دھرماراج اپریتی کے مطابق، ایسا لگتا ہے کہ سیلاب چومنوبری گاؤں پالیکا کے شمالی علاقے سے آیا ہے۔ نقشے کے مطالعے سے یہ علاقہ مناسلو خطے سے جڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے بتایا، ’’سیلاب لوکپا اور چوملنگ کے شمالی حصے سے آیا ہے۔ نقشے میں دیکھنے سے یہ مناسلو کے نچلے آبی ذخیرے کے علاقے جیسا دکھائی دیتا ہے۔ یہ علاقہ مناسلو پہاڑ سے جڑا ہوا ہے۔ پانی تومکھولا، سیام کھولا اور چولنگ کھولا سے ہوتا ہوا نیچے آتا ہے۔‘‘

ڈاکٹر اپریتی کے مطابق، سیلاب کے باعث سر دی باس، جگت، یارو، تاتوپانی، ماتھی کھولا، سوتی اور آروکھیت سے ہوتے ہوئے آرو گھاٹ تک املاک اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آرو گھاٹ میں کافی نقصان ہوا ہے اور وہاں کا پل بھی سیلاب میں بہہ گیا ہے۔ علاقے میں موجود پن بجلی منصوبے کے بنیادی ڈھانچے اور تعمیر شدہ عمارتوں کو بھی سیلاب بہا لے گیا ہے۔ تاہم، اب تک اس سیلاب میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

ادارے کے ایگزیکٹیو سربراہ نے واضح کیا کہ برفانی تودے کو سیلاب کی وجہ قرار دینا فی الحال محض ایک ابتدائی اندازہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لوکپا میں رابطے میں آنے والے ایک مقامی شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنی آنکھوں سے برفانی تودہ گرتے دیکھا ہے۔

مقامی شخص کی اطلاع کی بنیاد پر خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ برفانی تودے کا ملبہ نیچے کی جانب آیا اور راستے میں کئی مقامات پر پانی یا ملبہ رکنے اور پھر اچانک بہنے کے عمل کے نتیجے میں سیلاب آیا ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر اپریتی نے کہا کہ اس امکان کی جانچ کی جا رہی ہے اور فی الحال اسے حتمی نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

بوڑھی گنڈک ندی میں پانی کی سطح خطرے کے نشان سے اوپرسیلاب کی پیش گوئی کرنے والے محکمے کے مطابق، اتوار کی صبح تقریباً 4 بجے سے چومنوبری گاؤں پالیکا سے ہو کر بہنے والی اڑنگول ندی کے راستے بوڑھی گنڈکی ندی میں پانی کی سطح بڑھنے لگی۔

سیلاب کے اثرات گورکھا، دھادنگ، تنہو اور چتوان اضلاع تک پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کے پیش نظر متعلقہ علاقوں کے لوگوں سے محتاط رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔

محکمے نے صبح 9 بج کر 25 منٹ پر جاری کردہ اطلاع میں بتایا کہ بوڑھی گنڈک ندی میں پانی کی سطح خطرے کے نشان سے اوپر ہے اور اس میں مسلسل اتار چڑھاؤ ہو رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande