نوبل امن انعام یافتہ نوی پلّے نے آئی سی سی پر امریکی پابندیوں کو ناقابلِ قبول قرار دیا
اوسلو، 10 اکتوبر (ہ س)۔ جنوبی افریقہ کی معروف ماہرِ قانون اور اقوام متحدہ کی سابق سربراہ برائے انسانی حقوق نوی پلّے نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) پر امریکہ کی جانب سے عائد کی گئی حالیہ پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں ”بے مثال اور نا
نوبل امن انعام یافتہ نوی پلّے نے آئی سی سی پر امریکی پابندیوں کو ناقابلِ قبول قرار دیا


اوسلو، 10 اکتوبر (ہ س)۔

جنوبی افریقہ کی معروف ماہرِ قانون اور اقوام متحدہ کی سابق سربراہ برائے انسانی حقوق نوی پلّے نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) پر امریکہ کی جانب سے عائد کی گئی حالیہ پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں ”بے مثال اور ناقابلِ قبول“ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی احکامات جاری کرنے کی وجہ سے ججوں کو پابندیوں کا سامنا کرنا بین الاقوامی نظامِ انصاف کے مستقبل اور اس کے وجود کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔

اوسلو میں واقع نوبل امن مرکز میں منعقدہ ایک پروگرام سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے نوی پلّے نے کہا کہ بین الاقوامی عدالتوں، خصوصاً نیدرلینڈز کے شہر ہیگ میں قائم آئی سی سی کے مستقبل کو لے کر کشیدگی اور تشویش پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی ملک کی جانب سے عدالتی احکامات جاری کرنے پر عدالت کے ججوں کے خلاف پابندیاں عائد کرنا ایسا اقدام ہے، جسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔

نوی پلّے نے بین الاقوامی عدالتی اداروں کی خودمختاری اور ان کے کام کاج پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب آئی سی سی اور اس کے عہدیداروں کے خلاف امریکی پابندیوں پر بین الاقوامی سطح پر بحث جاری ہے۔

نوی پلّے جنوبی افریقہ کی ممتاز ماہرِ قانون ہیں۔ وہ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے عہدے پر فائز رہ چکی ہیں اور بین الاقوامی نظامِ انصاف سے متعلق معاملات میں ان کا اہم کردار رہا ہے۔ اس سال کے نوبل امن انعام سے سرفراز نوی پلّے نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی عدالتوں کے لیے آزادانہ طور پر کام کرنا نہایت ضروری ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande