ناسا کم بلندی والے زمین کے مدار میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گا، نجی کمپنیوں کے خلائی اسٹیشنوں سے لے گا مدد
واشنگٹن، 10 اکتوبر (ہ س)۔ امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے کم بلندی والے زمین کے مدار (لو ارتھ آربٹ یا ایل ای او) میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ادارہ ایسے مستقبل کی جانب بڑھ رہا ہے ج
NASA-presence-low-Earth-orbit


واشنگٹن، 10 اکتوبر (ہ س)۔ امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے کم بلندی والے زمین کے مدار (لو ارتھ آربٹ یا ایل ای او) میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ادارہ ایسے مستقبل کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں زمین کے نچلے مدار میں قائم تجارتی خلائی اسٹیشن، یعنی نجی خلائی اسٹیشن(کمرشیل اسپیس اسٹیشن) اہم کردار ادا کریں گے۔ ناسا نے جمعہ کو اگلے سلسلے کے تجارتی خلائی اسٹیشنوں کے لیے نجی خلائی کمپنیوں سے تجاویز طلب کی ہیں۔

ناسا کی جانب سے جاری بیان میں ادارے کے منتظم جیئرڈ آئزک مین نے اس فیصلے کی اطلاع دی۔ انہوں نے کہا کہ صدر کی قومی خلائی پالیسی کے مطابق بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) کو تقریباً 2030 میں خدمات سے سبک دوش کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد ناسا اپنا نیا خلائی اسٹیشن بنانے کے بجائے نجی کمپنیوں کے تجارتی خلائی اسٹیشنوں کی خدمات حاصل کرے گا اور ان کے صارف کے طور پر اپنی موجودگی برقرار رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے بند ہونے کے بعد بھی ناسا کو تحقیق، ٹیکنالوجی کی ترقی، خلابازوں کی تربیت اور چاند و مریخ کے مشنوں کی تیاری کے لیے خلائی اسٹیشنوں کی ضرورت رہے گی۔ تجارتی خلائی اسٹیشن یہ سہولت فراہم کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان سے امریکی صنعت کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ناسا کو مستقبل کے پیچیدہ خلائی مشنوں پر اپنے زیادہ سے زیادہ وسائل صرف کرنے میں مدد ملے گی۔

بیان کے مطابق، رواں سال کے آغاز میں ’پروجیکٹ اگنیشن‘ شروع کرنے کے بعد سے ناسا کم بلندی ولے زمین کے مدار میں اپنی مستقبل کی سرگرمیوں کی سمت طے کرنے کے لیے نجی کمپنیوں سے مسلسل بات چیت کر رہا ہے۔ اسی سلسلے میں ادارے نے جولائی میں تجاویز طلب کرنے کے عمل کا ایک مسودہ بھی جاری کیا تھا۔ اس سے دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں کو مجوزہ خریداری کے طریقہ کار کا جائزہ لینے اور اس پر اپنی رائے دینے کا موقع ملا۔

آئزک مین نے کہا کہ”ہم نے واضح کر دیا ہے کہ ناسا کبھی بھی کم بلندی والے زمین کے مدار میں اپنی موجودگی ختم نہیں کرے گا۔“بیان کے مطابق، اس حکمت عملی میں تبدیلی کی ایک بڑی وجہ اخراجات میں کمی لانا ہے۔ اپنا خلائی اسٹیشن قائم کرنے اور چلانے پر بہت زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے، جب کہ نجی خلائی اسٹیشنوں کی خدمات حاصل کرنے سے ناسا کے اربوں ڈالر بچ سکتے ہیں۔ اس طرح بچنے والے بجٹ اور وسائل کو ’آرٹیمس مشن‘ کے تحت چاند پر مستقل اڈہ قائم کرنے اور مستقبل میں انسانوں کو مریخ پر بھیجنے کی تیاریوں پر خرچ کیا جا سکے گا۔

بتایا گیا ہے کہ ناسا ’ایکسیوم اسپیس‘ اور ’بلیو اوریجن‘ جیسی کمپنیوں کو اپنے خلائی اسٹیشن تیار کرنے کے لیے مالی اور تکنیکی مدد بھی فراہم کر رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande