
نئی دہلییکم اکتوبر (ہ س )۔
”کشمیر – اے جرنی بیونڈ ٹائم“، سپریم کورٹ آف انڈیا کے ایڈووکیٹ محمد ارشاد احمد کی تحریر کردہ سفرنامہ پر مبنی کتاب کی ایک باوقار اور یادگار تقریبِ رونمائی انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (IICC)، لودھی روڈ، نئی دہلی میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں قانونی، تعلیمی، ادبی اور سماجی شعبوں سے وابستہ متعدد ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب کی صدارت سلمان خورشید، سینئر ایڈووکیٹ، سابق مرکزی وزیر اور صدر، انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر نے کی۔ جسٹس اقبال انصاری، سابق چیف جسٹس، پٹنہ ہائی کورٹ نے مہمانِ اعزازی کی حیثیت سے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر پردیپ رائے، سینئر ایڈووکیٹ اور صدر، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، جناب ایس۔ ایم۔ قمر عالم، سابق رکن بہار قانون ساز کونسل، جناب خواجہ ایم۔ شاہد، رکن بورڈ آف ٹرسٹیز، آئی آئی سی سی اور کنوینر،ایچ آر ڈی و لائبریری سمیت سپریم کورٹ کے متعدد سینئر وکلاء اور قانونی برادری سے وابستہ ممتاز شخصیات موجود تھیں۔
تقریب میں اپنی کتاب کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے ایڈووکیٹ ارشاد احمد نے بتایا کہ ”کشمیر – اے جرنی بیونڈ ٹائم“ ایک ذاتی اور جذباتی سفرنامہ ہے، جو کشمیر کے ان کے یادگار سفر سے متاثر ہوکر تحریر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کتاب کو تحریر کرنے کی بنیادی تحریک انہیں کشمیر کی بے مثال قدرتی خوبصورتی، پ±رسکون ماحول، جھیلوں، پہاڑوں، وادیوں، مغلیہ باغات، چنار کے درختوں اور سب سے بڑھ کر وہاں کے لوگوں کی محبت، گرمجوشی اور مہمان نوازی سے ملی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ کتاب نہ تو کوئی روایتی سفری رہنما ہے اور نہ ہی سیاسی مباحث پر مبنی کتاب، بلکہ قدرت، ثقافت، دوستی، مہمان نوازی اور انسانی تجربات کا ایک ذاتی اور تاثراتی سفرنامہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد اس کشمیر کو قارئین کے سامنے پیش کرنا ہے جسے انہوں نے خود دیکھا، محسوس کیا اور تجربہ کیا، اور جس کی یادیں سفر سے واپسی کے بعد بھی ان کے دل و دماغ میں زندہ رہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سلمان خورشید نے کتاب کی بھرپور ستائش کی اور کشمیر کے ذاتی تجربات کو ادبی انداز میں پیش کرنے پر مصنف کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سفرنامہ نگاری یادوں، تجربات اور ثقافتی مشاہدات کو محفوظ رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
جسٹس اقبال انصاری نے بھی اس موقع پر کتاب کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس کے مندرجات کو سراہا۔ انہوں نے بالخصوص کشمیر کی قدرتی خوبصورتی، ثقافتی دولت اور انسانی پہلوو¿ں کو کتاب میں نمایاں جگہ دینے کی تعریف کی۔
ڈاکٹر پردیپ رائے نے بھی ایڈووکیٹ ارشاد احمد کی اس ادبی کاوش کو سراہا اور کہا کہ ایک یادگار سفر کو کتاب کی شکل دے کر قارئین تک پہنچانا ایک قابلِ تعریف اور خوبصورت کوشش ہے۔
تقریب میں سپریم کورٹ کے متعدد وکلاء، قانونی برادری کے سینئر ارکان، دوستوں، ساتھیوں اور خیرخواہوں کی شرکت نے پروگرام کو مزید وقار، گرمجوشی اور اپنائیت عطا کی۔
آخر میں ایڈووکیٹ ارشاد احمد نے تمام معزز مہمانوں اور تقریب میں شریک افراد کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ”کشمیر – اے جرنی بیونڈ ٹائم“ کی رونمائی ان کے لیے محض ایک کتاب کی اشاعت نہیں، بلکہ ان کی زندگی کے ایک اہم سفر، اس سے وابستہ یادوں اور جذبات کو قارئین اور معاشرے کے ساتھ بانٹنے کا ایک خوبصورت موقع ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais