
علی گڑھ, یکم اکتوبر (ہ س)۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ یونین انتخابات کی بحالی کے مطالبے کو لے کر طلبہ کا دھرنا جمعرات کو 11ویں روز بھی جاری رہا۔ اس دوران سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ اور اے ایم یو طلبہ یونین کے سابق رہنما شمس تبریز دھرنا گاہ پہنچے اور طلبہ کے مطالبات کی حمایت کی۔
شمس تبریز نے کہا کہ طلبہ کے مطالبات پر انتظامیہ کو سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے جلد فیصلہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے تقریباً آٹھ برس سے انتخابات نہ ہونے پر سوال اٹھاتے ہوئے انتظامیہ سے صورتِ حال واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ اے ایم یو میں آخری باقاعدہ طلبہ یونین انتخابات 2018-19 میں ہوئے تھے۔ ان کے مطابق اس کے بعد سے طلبہ اپنی منتخب نمائندگی سے محروم ہیں۔ طلبہ نے انتظامیہ سے انتخابات کے لیے واضح اور وقت مقررہ کا لائحۂ عمل جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
طلبہ کا دعویٰ ہے کہ فیس میں اضافے کے خلاف سابقہ احتجاج کے دوران دسمبر 2025 میں انتخابات کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، تاہم اب تک انتخابی تاریخ سامنے نہیں آئی۔ یاسر فہد کی قیادت میں جاری احتجاج میں عبداللہ کالج کی طالبات سمیت دیگر طلبہ بھی حمایت کر چکے ہیں۔
طلبہ نے وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون سے براہِ راست بات چیت اور انتخابات کے انعقاد کے لیے واضح روڈ میپ جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی قانونی یا انتظامی رکاوٹ ہے تو اسے طلبہ کے سامنے واضح کیا جائے، جبکہ انتخابات ممکن ہیں تو ان کی باقاعدہ ٹائم لائن جاری کی جائے۔
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ