
نئی دہلی، یکم اکتوبر (ہ س): مرکزی حکومت نے تہواروں کے موسم میں چینی کی ذخیرہ اندوزی روکنے، صارفین کو مناسب سپلائی فراہم کرنے اور مناسب قیمت یقینی بنانے کے لیے جمعرات کو چینی کے ذخیرے سے متعلق ضوابط میں ترمیم کی ہے۔ حکومت نے چینی رکھنے کی حد کم کرکے 1,000 کوئنٹل اور اسٹاک رکھنے کی زیادہ سے زیادہ مدت 15 دن کر دی ہے۔
صارفین کے امور، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت کے مطابق یہ نئی حد 15 اکتوبر سے 30 نومبر تک نافذ رہے گی اور ڈیلر زیادہ سے زیادہ 15 دن تک چینی کا اسٹاک رکھ سکیں گے۔ تاہم، کولکاتا اور اس کے توسیع شدہ میٹروپولیٹن علاقے اور آسام میں مقامی ضروریات کے پیش نظر اسٹاک کی حد 2,000 کوئنٹل ہوگی۔
وزارت نے کہا کہ یکم اکتوبر سے نئے شوگر سیزن کے آغاز کے ساتھ تہواروں کے دوران صارفین کو مناسب قیمت پر چینی کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے حکومت اقدامات کر رہی ہے۔ چینی کی مقدار اور اسے رکھنے کی مدت محدود کرنے کا مقصد سپلائی چین میں چینی کی منظم نقل و حرکت کو یقینی بنانا اور صارفین کے لیے اس کی مسلسل دستیابی برقرار رکھنا ہے۔
اس سے قبل اگست میں حکومت نے ملک بھر میں ڈیلروں کے لیے چینی کی اسٹاک حد 4,000 کوئنٹل مقرر کی تھی۔ یہ حد یکم اگست سے 30 نومبر تک نافذ تھی۔ اس کے تحت چینی موصول ہونے کی تاریخ سے زیادہ سے زیادہ 30 دن تک اسٹاک رکھنے کی اجازت تھی۔ بعد میں 15 ستمبر سے یہ حد کم کرکے 2,000 کوئنٹل کر دی گئی تھی۔
وزارت کے مطابق چینی کی اوسط خوردہ قیمت اگست کی بلند ترین سطح کے مقابلے میں اب 15 فیصد کم ہو چکی ہے۔ سپلائی چین میں کم قیمتوں کا فائدہ صارفین تک پہنچنے کے ساتھ قیمت میں مزید کمی کی توقع ہے۔ ملوں کی قیمتوں میں تقریباً 28 فیصد کمی آئی ہے اور وہ گزشتہ تین ہفتوں سے مستحکم ہیں۔
حکومت نے چینی ملوں، ڈیلروں، تھوک فروشوں اور دیگر مارکیٹ کے شرکا سے کہا ہے کہ وہ چینی کی بلاتعطل نقل و حرکت یقینی بنائیں، ذخیرہ اندوزی اور سٹہ بازی روکیں اور ملوں کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کا فائدہ تھوک اور خوردہ فروشوں کے ذریعے صارفین تک فوری طور پر پہنچائیں۔
اس کے علاوہ، مرکزی حکومت نے چینی ملوں کو اپنے علاقوں کی زرعی اور موسمی حالات کے مطابق گنے کی پَیرائی شروع کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ریاستی حکومتوں سے بھی موجودہ حالات کی بنیاد پر پَیرائی شروع کرنے کے سلسلے میں مناسب اقدامات کرنے کو کہا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد