
نئی دہلی، 07 جنوری (ہ س)۔ پیتھالوجی اور ریڈیالوجی سروس فراہم کرنے والی کمپنی ماڈرن ڈائیگناسٹک اینڈ ریسرچ سینٹر کے شیئرز نے آج اسٹاک مارکیٹ میں پریمیم انٹری کے ساتھ اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو خوش کر دیا۔ آئی پی او کے تحت کمپنی کے شیئرز 90 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج بی ایس ای کے ایس ایم ای پلیٹ فارم پر اس کی لسٹنگ 10.56 فیصد پریمیم کے ساتھ 99.50 روپے کی سطح پر ہوئی۔ تاہم لسٹنگ کے بعد ہونے والی فروخت کے باعث شیئر کی قیمت میں معمولی کمی بھی دیکھی گئی۔ صبح 10:30 بجے تک کے کاروبار کے بعد کمپنی کے شیئرز 96.22 روپے کی سطح پر ٹریڈ کر رہے تھے۔ اس طرح اب تک کے کاروبار میں آئی پی او سرمایہ کار 6.91 فیصد کے منافع میں تھے۔
ماڈرن ڈائیگناسٹک اینڈ ریسرچ سینٹر کا 36.89 کروڑ روپے کا آئی پی او 31 دسمبر سے 2 جنوری کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ اس آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی جانب سے زبردست ردِعمل ملا، جس کے باعث یہ مجموعی طور پر 376.90 گنا سبسکرائب ہوا تھا۔ اہل ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (کیو آئی بی) کے لیےریزرو پورشن 193.51 گنا سبسکرائب ہوا تھا۔ جبکہ غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں(این آئی آئی) کے لیےریزرو پورشن میں 702.08 گنا سبسکرپشن آیا تھا۔ اسی طرح خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے مختص حصہ 342.46 گنا سبسکرائب ہوا۔ اس آئی پی او کے تحت 10 روپے فیس ویلیو والے 40,99,200 نئے شیئرز جاری کیے گئے ہیں۔ آئی پی او کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم کو کمپنیطبی آلات کی خریداری، پرانے قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے، ورکنگ کیپیٹل کی ضروریات پوری کرنے اور عام کارپوریٹ مقاصد کے لیے استعمال کرے گی۔
کمپنی کی مالی حالت کی بات کریں تو کیپیٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کے پاس جمع کرائے گئے ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) کے مطابق کمپنی کی مالی صحت میں مسلسل بہتری آئی ہے۔ مالی سال 2022-23 میں کمپنی کو 5.73 کروڑ روپے کا خالص نقصان ہوا تھا۔ تاہم اگلے مالی سال 2023-24 میں کمپنی نے 5.79 کروڑ روپے کا خالص منافع حاصل کیا، جو 2024-25 میں بڑھ کر 8.97 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔ موجودہ مالی سال کے حوالے سے، پہلی سہ ماہی یعنی اپریل سے جون 2025 کے دوران کمپنی نے 3 کروڑ روپے کا منافع کمایا ہے۔ اس عرصے میں کمپنی کی آمدنی 15 فیصد سالانہ سے زیادہ کی سالانہ کمپاؤنڈ شرح ترقی سے بڑھ کر 78.80 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔
اسی دوران کمپنی کے قرض میں بھی مسلسل اضافہ ہوا۔ مالی سال 2022-23 کے اختتام پر کمپنی کا قرض 15.31 کروڑ روپے تھا، جو مالی سال 2023-24 کے اختتام پر بڑھ کر 20.46 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی طرح مالی سال 2024-25 کے اختتام پر کمپنی کا قرض بڑھ کر 22.09 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔ موجودہ مالی سال میں، پہلی سہ ماہی یعنی اپریل سے جون 2025 کے دوران کمپنی پر قرض کا بوجھ 30.38 کروڑ روپے تک پہنچ گیا تھا۔
کمپنی کے ریزرو اور سرپلس کی بات کریں تو مالی سال 2022-23 کے اختتام پر یہ 4.96 کروڑ روپے تھا، جو مالی سال 2023-24 کے اختتام پر بڑھ کر 10.76 کروڑ روپے ہو گیا۔ مالی سال 2024-25 کے اختتام پر معمولی کمی کے ساتھ یہ 9.73 کروڑ روپے کی سطح پر آ گیا۔ موجودہ مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں کمپنی کا ریزرو اور سرپلس بڑھ کر 12.72 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد