مادورو نیویارک کی عدالت میں پیش،وینزویلین صدرکا بے گناہی کا دعویٰ
نیویارک،06جنوری(ہ س)۔ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے پیر کے روز ایک امریکی عدالت میں پیشی کے دوران اپنے اوپر عائد الزامات سے انکار کرتے ہوئے بے گناہی کا دعویٰ کیا اور جج سے کہا کہ وہ ایک باعزت انسان اور اپنے ملک کے صدر ہیں۔نیویارک کی عدالت میں ما
مادورو نیویارک کی عدالت میں پیش،وینزویلین صدرکا بے گناہی کا دعویٰ


نیویارک،06جنوری(ہ س)۔

وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے پیر کے روز ایک امریکی عدالت میں پیشی کے دوران اپنے اوپر عائد الزامات سے انکار کرتے ہوئے بے گناہی کا دعویٰ کیا اور جج سے کہا کہ وہ ایک باعزت انسان اور اپنے ملک کے صدر ہیں۔نیویارک کی عدالت میں مادورو نے کہا کہ انہوں نے فردِ جرم میں درج کسی بھی الزام کا ارتکاب نہیں کیا اور انہیں ان کے گھر سے اغوا کیا گیا۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق جج نے مادورو کو طویل گفتگو سے روک دیا اور کہا کہ انہیں بعد میں بات کرنے کا موقع دیا جائے گا۔عدالت نے مادورو کو 17 مارچ کو دوسری سماعت کے لیے دوبارہ پیش ہونے کا حکم دیا۔63 سالہ مادورو نے عدالت میں کہا کہ وہ بے قصور ہیں اور کسی جرم کے مرتکب نہیں ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں کراکس میں ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا اور وہ اب بھی خود کو وینزویلا کا صدر سمجھتے ہیں۔ یہ بات امریکی ذرائع ابلاغ نے عدالت کے اندر سے نقل کی۔

مادورو نیلی جیل یونیفارم میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ دوپہر کے وقت مختصر مگر لازمی قانونی کارروائی کے لیے عدالت میں پیش کیے گئے۔ مبصرین کے مطابق یہ کارروائی اس سوال پر طویل قانونی معرکے کا آغاز ہو سکتی ہے کہ آیا انہیں امریکہ میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا یا نہیں۔دونوں میاں بیوی نے سماعت کے دوران انگریزی کارروائی کا ہسپانوی زبان میں بیک وقت ترجمہ سننے کے لیے ہیڈ فون پہن رکھے تھے۔پیر کے روز مادورو اور ان کی اہلیہ نیویارک کی عدالت پہنچے جہاں وہ دو دن قبل کراکس میں اپنی گرفتاری کے بعد پیش ہوئے۔ یہ گرفتاری ایک امریکی فوجی کارروائی کے دوران عمل میں آئی جسے مبصرین نے چونکا دینے والی کارروائی قرار دیا جو تیل سے مالا مال ریاست پر واشنگٹن کے اثر و رسوخ کے منصوبوں کی راہ ہموار کرتی ہے۔امریکی ذرائع ابلاغ کی جانب سے نشر کی گئی براہِ راست فوٹیج میں مادورو کو نیویارک لے جاتے ہوئے دکھایا گیا جہاں وہ تقریباً دوپہر کے وقت عدالت میں پیش ہوئے۔ ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں اور بھاری اسلحہ سے لیس سکیورٹی اہلکار ان کے ساتھ تھے۔ہفتے کی شام سے مادورو بروکلین کی ایک جیل میں قید ہیں جو امریکہ کی بڑی جیلوں میں شمار ہوتی ہے اور خراب طبی حالات اور انتظامی کمزوریوں کے لیے جانی جاتی ہے۔ ان پر منشیات کی اسمگلنگ اور خودکار اسلحہ رکھنے سمیت چار الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان کی باضابطہ عدالتی کارروائی دوپہر 17:00 گرین وچ وقت کے مطابق شروع ہونا ہے۔مان ہٹن میں جنوبی ضلع کی عدالت کے باہر درجنوں صحافی صبح سویرے سے موجود تھے تاکہ پہلی سماعت کی کوریج کے لیے جگہ حاصل کر سکیں۔ہفتے کے روز جاری کی گئی نئی فردِ جرم میں 63سالہ نکولس مادورو سال اور ان کی اہلیہ 69 سالہ سیلیا فلوریز سال کے نام شامل کیے گئے ہیں، جبکہ چار دیگر افراد بھی نامزد ہیں جن میں وینزویلا کے وزیر داخلہ دیوسدادو کابیو شامل ہیں جنہیں ملک کی طاقتور ترین شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے اور مادورو کا بیٹا بھی شامل ہے۔فردِ جرم میں کہا گیا ہے کہ نکولس مادورو ایک ایسی بدعنوان اور غیر قانونی حکومت کی سربراہی کر رہے ہیں جس نے دہائیوں سے ریاستی طاقت کو غیر قانونی سرگرمیوں کے تحفظ اور فروغ کے لیے استعمال کیا، جن میں منشیات کی اسمگلنگ بھی شامل ہے۔ ان سرگرمیوں سے وینزویلا کی سیاسی اور عسکری اشرافیہ مزید مضبوط اور مالا مال ہوئی۔ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے کولمبیا کی انقلابی مسلح افواج فارک کے ساتھ اتحاد کیا جسے واشنگٹن دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے اور مجرمانہ گروہوں کے ساتھ مل کر امریکہ میں ٹنوں کے حساب سے کوکین اسمگل کی۔

واشنگٹن کی جانب سے درست اقدامات کے انتباہ کے دوران دلسے رودریگز جنہیں امریکی اسپیشل فورسز کی کارروائی کے بعد قائم عبوری حکومت میں وینزویلا کی قائم مقام صدر مقرر کیا گیا، نے امریکہ کے ساتھ متوازن اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات میں تعاون پر آمادگی ظاہر کی۔انہوں نے کابینہ کے پہلے اجلاس کے بعد کہا کہ ہم امریکی حکومت کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی قانون کے دائرے میں مشترکہ ترقی پر مبنی تعاون کے ایجنڈے پر ہمارے ساتھ کام کرے تاکہ پائیدار سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔یوں مادورو کے دور میں نائب صدر رہنے والی شخصیت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے ابتدائی لچک کا اظہار کیا ہے جو عبوری مرحلے کی قیادت اور وینزویلا کے وسیع تیل کے وسائل سے فائدہ اٹھانے کے اپنے عزائم کو چھپاتے نہیں۔اتوار کی شام ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ان لوگوں سے نمٹ رہے ہیں جنہوں نے ابھی حلف اٹھایا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ذمہ دار کون ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ اس سوال کا جواب نہیں دیں گے کیونکہ وہ انتہائی متنازع ہوگا۔

بعد ازاں انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ہی وینزویلا کے معاملات چلا رہے ہیں۔ٹرمپ نے امریکی جریدے دی اٹلانٹک کو دیے گئے انٹرویو میں دلسے رودریگز کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے درست قدم نہ اٹھایا تو انہیں بہت بھاری قیمت چکانا پڑے گی جو شاید مادورو سے بھی زیادہ ہو۔کئی ممالک نے امریکی مداخلت کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا ہے جسے امریکہ پولیس کارروائی قرار دیتا ہے۔ وینزویلا کی درخواست پر کولمبیا کے ذریعے سلامتی کونسل کا اجلاس پیر کے روز طلب کیا گیا۔امریکہ کے بعض اتحادیوں بشمول یورپی یونین نے مادورو کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔پیرس میں فرانسیسی صدر عمانویل میکروں نے کہا کہ فرانس اس طریقہ کار کی حمایت یا توثیق نہیں کرتا جس کے ذریعے امریکہ نے وینزویلا کے صدر کو گرفتار کیا۔یورپی یونین کی ترجمان انیتا ہیبر نے کہا کہ اگلے اقدامات مکالمے سے متعلق ہیں جو جمہوری عبوری عمل کی جانب بڑھیں اور اس میں ایڈموندو گونزالس اوروتیا اور ماریا کورینا ماچادو کو شامل کیا جانا چاہیے۔وینزویلا کے وزیر دفاع جنرل ولادیمیر پادرینو لوپیز نے تسلیم کیا کہ اس کارروائی کے دوران جو ہوگو شاویز کے جانشین کے خلاف انتہائی منصوبہ بندی کے ساتھ کی گئی، مادورو کے ذاتی محافظوں کی بڑی تعداد ہلاک ہو گئی۔کیوبا کی حکومت کے مطابق اس کارروائی میں 32 کیوبن سکیورٹی اہلکار بھی مارے گئے جس کے بعد کیوبا نے دو روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا۔ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ کیوبا زوال کے قریب ہے اور اشارہ دیا کہ وینزویلا کے تیل کی آمدنی کے بغیر ملک کا سنبھلنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں شاید کسی اقدام کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ سب کچھ بکھرتا دکھائی دے رہا ہے۔اتوار کی شب ٹرمپ نے کہا تھا کہ کولمبیا میں وینزویلا جیسی کارروائی ایک اچھا خیال ہو سکتا ہے اور انہوں نے کولمبیا کے بائیں بازو کے صدر گوستاوو پیٹرو پر امریکہ میں منشیات اسمگل کرنے کا الزام لگاتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ زیادہ دیر نہیں چلے گا۔ان بیانات کے جواب میں کولمبیا کے صدر نے پیر کے روز اسلحہ اٹھانے کی دھمکی دی۔

دوسری جانب میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینباوم نے کہا کہ امریکہ کسی ایک نظریے یا طاقت کی ملکیت نہیں بلکہ ان تمام قوموں کا ہے جو اس پر مشتمل ہیں۔اگرچہ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اب دیگر ممالک کے سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں چاہتا جیسا کہ اس نے عراق اور افغانستان میں کیا تھا، تاہم ٹرمپ نے وینزویلا کے وسیع تیل وسائل میں اپنی دلچسپی واضح رکھی ہے جہاں دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ خام تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ٹرمپ نے کہا کہ وہ امریکی تیل کمپنیوں کو وینزویلا کے تیل کے ذخائر سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دیں گے جو بلیک مارکیٹ میں خاص طور پر چین کو فروخت کیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ان کے تیل اور دیگر وسائل تک رسائی کی ضرورت ہے تاکہ ہم ان کے ملک کی تعمیر نو کر سکیں۔اگرچہ وینزویلا کے اندر کسی معروف امریکی فوجی موجودگی کی تصدیق نہیں ہوئی تاہم ساحلی پانیوں میں امریکی بحری موجودگی نمایاں ہے جہاں طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کیا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande