
پیرس،06جنوری(ہ س)۔
فرانس کے دار الحکومت پیرس میں آج امریکہ کی ثالثی میں شام اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کے دوسرے روز کا انعقاد متوقع ہے۔ تاہم دونوں فریقوں کے درمیان کسی سکیورٹی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات زیادہ روشن دکھائی نہیں دیتے۔اسرائیلی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن ان مذاکرات کے بارے میں زیادہ پرجوش نہیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دمشق اس بات پر قائم ہے کہ اسرائیلی افواج آٹھ دسمبر 2024 کو سابقہ نظام کے خاتمے کے بعد جن تمام علاقوں پر قابض ہوئی ہیں، وہاں سے مکمل انخلا عمل میں لایا جائے۔ مزید یہ کہ شام کے جنوب میں قائم کیے گئے نو فوجی مقامات اور چوکیاں ختم کی جائیں۔ یہ بات اسرائیلی اخبار یدیعوت آحرونوت نے اپنی رپورٹ میں بتائی۔ دوسری جانب نیتن یاہو ان شامی مطالبات کو مسترد کرتے دکھائی دیتے ہیں، حالانکہ امریکی انتظامیہ ان مطالبات کو “منطقی” قرار دیتی ہے۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق پیرس میں ہونے والے یہ مذاکرات امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباو ¿ کے بعد ممکن ہوئے، جنہوں نے اسرائیل اور شام دونوں پر زور دیا کہ سرحدوں پر سکیورٹی صورتحال کو مستحکم کرنے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچا جائے۔ اسرائیلی چینل 12 کے مطابق یہ اقدام مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی ممکنہ معمول سازی کی جانب پہلا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔اسرائیلی وفد، جس نے پیر کے روز شامی وفد سے ملاقات کی، میں امریکہ میں اسرائیل کے سفیر یہئیل لیتر، نیتن کے فوجی سیکرٹری رومان گوفمان، موساد کی سربراہی کے امیدوار اور قومی سلامتی کونسل کے قائم مقام سربراہ گیل رائخ شامل ہیں۔جبکہ شامی وفد کی قیادت وزیر خارجہ اسعد الشیبانی کر رہے ہیں۔ ایک شامی سرکاری ذریعے کے مطابق وفد میں جنرل انٹیلی جنس کے سربراہ حسین السلامہ بھی شامل ہیں۔شامی ذریعے نے مزید بتایا کہ موجودہ مذاکرات بنیادی طور پر 1974 کے امن معاہدے کو دوبارہ فعال بنانے پر مرکوز ہیں، تاکہ بشار حکومت کے خاتمے کے بعد جن علاقوں میں اسرائیلی افواج آگے بڑھی ہیں وہاں سے انخلا کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ سب ایک ایسے متوازن سکیورٹی معاہدے کے تحت ہونا ہے جس میں شامی خود مختاری کو ہر صورت مقدم رکھا جائے۔دمشق اسرائیل سے مطالبہ کر رہا ہے کہ 1974 کے موہ فض اشتباءمعاہدے کا احترام کرے، جو آخری عرب اسرائیل جنگ کے بعد طے پایا تھا اور جس میں گولان کی پہاڑیوں میں اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں اور شامی سرزمین کے درمیان حد فاصل متعین کی گئی تھی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے شام کے فوجی ٹھکانوں پر سیکڑوں فضائی حملے کیے، اور دعوی کیا کہ اس کا مقصد نئی شامی انتظامیہ کو سابق فوجی اسلحے پر قبضہ کرنے سے روکنا ہے۔اس کے علاوہ اسرائیلی افواج نے جولان کے غیر فوجی بفر زون میں بھی پیش قدمی کی، اور شام کے جنوب میں زمینی کارروائیوں اور افراد کی گرفتاریوں کا متعدد بار اعلان کیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan