جرمنی کی جانب سے ایئر فورس ون میں اوباما کی جاسوسی کا انکشاف
واشنگٹن،06جنوری(ہ س)۔ بین الاقوامی پریس رپورٹس پر مبنی ایک نئی شائع ہونے والی کتاب کے حوالے سے ایک بڑی انٹیلی جنس حیرت انگیز حقیقت سامنے آئی ہے جس کے مطابق جرمن خفیہ ایجنسی نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کی صدارت کے دوران ایئر فورس ون میں موجودگی
جرمنی کی جانب سے ایئر فورس ون میں اوباما کی جاسوسی کا انکشاف


واشنگٹن،06جنوری(ہ س)۔

بین الاقوامی پریس رپورٹس پر مبنی ایک نئی شائع ہونے والی کتاب کے حوالے سے ایک بڑی انٹیلی جنس حیرت انگیز حقیقت سامنے آئی ہے جس کے مطابق جرمن خفیہ ایجنسی نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کی صدارت کے دوران ایئر فورس ون میں موجودگی کے وقت ان کی ٹیلی فونک گفتگو کی نگرانی کی تھی۔یہ انکشاف اس وقت سامنے آیا جب اسی دور میں جرمنی کی سابق چانسلر انجیلا میرکل امریکہ کی جانب سے اپنے ذاتی فون کی نگرانی پر شدید غصے کا اظہار کر رہی تھیں۔

جرمن صحافی ہولگر اسٹارک نے اپنی نئی کتاب ریاستِ بالغہ: امریکہ کے بغیر جرمنی میں لکھا ہے کہ جرمن انٹیلی جنس نے ایک تکنیکی خامی دریافت کی جس کے تحت امریکی صدارتی طیارے سے کی جانے والی بعض کالز غیر محفوظ وائرلیس فریکوئنسیز پر منتقل ہو رہی تھیں۔ اسی خامی کے باعث جرمن ایجنسی کو ان کالز میں منظم انداز میں نقب لگانے اور انہیں سننے کا موقع ملا۔کتاب کے مطابق ان گفتگوو ¿ں کے مکمل خلاصے انتہائی خفیہ فائل کی صورت میں ا ±س وقت کے جرمن انٹیلی جنس چیف کو پیش کیے گئے تاہم بعد ازاں ان دستاویزات کو کارروائی کے نشانات مٹانے کے لیے تلف کر دیا گیا۔ان انکشافات کے اثرات کم کرنے کی کوشش میں واشنگٹن پوسٹ نے ایک سابق اعلیٰ جرمن عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ حاصل کی گئی معلومات صدر کو براہِ راست نشانہ بنانے کے لیے نہیں تھیں بلکہ یہ محض معمول کی وائرلیس نگرانی کے دوران ہونے والی اتفاقی ریکارڈنگ تھی۔ عہدیدار کے مطابق اس حساس معاملے کے باوجود ان رپورٹس پر اس وقت میرکل کے دفتر میں اندرونی سطح پر بات چیت جاری رہی۔یہ لیکس جرمنی اور امریکہ کے تعلقات میں موجود تضاد کو ایک بار پھر اجاگر کرتی ہیں۔ ایک جانب انجیلا میرکل ایڈورڈ اسنوڈن کے انکشافات کے بعد دوست ممالک کے درمیان جاسوسی کو ناقابلِ قبول قرار دے رہی تھیں تو دوسری جانب جرمن خفیہ ادارے امریکی اعلیٰ حکام کی نگرانی میں مصروف تھے۔رپورٹس کے مطابق نگرانی صرف باراک اوباما تک محدود نہیں رہی بلکہ سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اور سابق وزیر خارجہ جان کیری کی گفتگو بھی اس کی زد میں آئی جس پر ا ±س وقت وائٹ ہاو ¿س کی جانب سے خاموش سفارتی احتجاج کیا گیا۔یہ واقعہ قریبی اتحادیوں کے درمیان بھی خفیہ جنگ کی پیچیدہ نوعیت کو ظاہر کرتا ہے خاص طور پر جرمن معاشرے میں جہاں ماضی کے نگرانی کے تلخ تجربات کے باعث ذاتی رازداری کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande