دریائے چناب اور سندھ کا پانی اب اپنے ملک کے عوام کے فائدے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ منوہر لال کھٹر
دریائے چناب اور سندھ کا پانی اب اپنے ملک کے عوام کے فائدے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ منوہر لال کھٹر جموں، 05 جنوری (ہ س)۔ ہندوستان کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کیے جانے کے چند ماہ بعد، مرکزی وزیرِ توانائی منوہر لال کھٹّر نے واضح کیا کہ جموں و
Khatar


دریائے چناب اور سندھ کا پانی اب اپنے ملک کے عوام کے فائدے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ منوہر لال کھٹر

جموں، 05 جنوری (ہ س)۔ ہندوستان کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کیے جانے کے چند ماہ بعد، مرکزی وزیرِ توانائی منوہر لال کھٹّر نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر میں دریائے سندھ اور چناب کے طاس میں جاری پن بجلی منصوبوں کے حوالے سے پاکستان کے کسی بھی اعتراض کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔ مرکزی وزیر نے کشتواڑ کے سلال ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کا دورہ کیا اور ساولکوٹ پن بجلی منصوبے کا فضائی معائنہ بھی انجام دیا۔ اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے منوہر لال کھٹر نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان کے کسی اعتراض کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے ’آپریشن سندور‘ کے بعد ان منصوبوں میں تیزی اور پاکستان کے لیے پیغام سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے سندھ طاس معاہدہ معطل کر کے پاکستان کو واضح پیغام دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے چناب اور سندھ کا پانی اب اپنے ملک کے عوام کے فائدے کے لیے استعمال کیا جائے گا اور اس سلسلے میں کسی بیرونی دباؤ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔مرکزی وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کشتواڑ میں جاری پن بجلی منصوبوں میں کسی ایسے شخص کو شامل نہیں کیا جائے گا جس کا پس منظر غیر قانونی یا مشتبہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ سخت نگرانی کے تحت صرف تصدیق شدہ اور قانون کی پابندی کرنے والے افراد کو ہی کام دیا جائے گا۔

فعال دہشت گردوں کے اہلِ خانہ یا ان افراد کے خلاف کارروائی سے متعلق سوال پر، جنہیں ان منصوبوں میں ٹھیکے ملے ہیں، منوہر لال کھٹّر نے کہا کہ روزگار صرف اُنہی لوگوں کو فراہم کیا جائے گا جو قانون پسند اور صاف شفاف کردار کے حامل ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ کارکنان سے متعلق تمام معلومات ادارہ جاتی سطح پر جانچی جائیں گی اور فی الحال کسی قسم کی منفی رپورٹ موصول نہیں ہوئی ہے۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ ان کے دورے کا مقصد جموں و کشمیر میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینا ہے۔ انہوں نے سلال پروجیکٹ کا معائنہ کیا اور ساولکوٹ پن بجلی منصوبے کا فضائی سروے بھی کیا۔ ان کے مطابق این ایچ پی سی کے تمام منصوبے جاری ہیں اور اگرچہ ابتدا میں کئی چیلنجز درپیش تھے، تاہم کام اب باضابطہ طور پر شروع ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 800 میگاواٹ صلاحیت کے ساولکوٹ منصوبے کی تکمیل کے بعد ملک کی بجلی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ کھٹّر کے مطابق اس منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں تکنیکی اور جغرافیائی سطح پر کئی دشوار مراحل درپیش تھے، تاہم اب تعمیراتی عمل نے رفتار پکڑ لی ہے۔

مرکزی وزیر نے اپنے دورے کے دوران آبپاشی منصوبوں، کول قلعہ میں جاری کاموں اور دیگر ترقیاتی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا، جبکہ بعد ازاں کشتواڑ میں آخری پروجیکٹ سائٹ کا معائنہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تعمیر اور بھرائی کا عمل شروع ہو چکا ہے، جبکہ کھدائی کا کام، جو تکنیکی طور پر نہایت حساس اور خطرناک مرحلہ سمجھا جاتا ہے، وہ بھی انجام دیا جا رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande