ایم پی کے اندور میں آلودہ پانی سے ایک اور موت، مہلوکین کی تعداد بڑھ کر 25 ہوئی
اندور، 21 جنوری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے اندور شہر کے بھاگیرتھ پورہ میں آلودہ پانی سے ایک اور موت ہو گئی ہے۔ بھاگیرتھ پورہ کے رہنے والے ہیمنت گائیکواڑ (51) کا اروندو اسپتال میں علاج چل رہا تھا، جہاں بدھ کی صبح تقریباً 3 بجے انہوں نے دم توڑ دیا۔
مہلوک ہیمنت گائیکواڑ کی تصویر


کلکٹر نے بھاگیرتھ پورہ میں سپلائی ہوتے پانی کو خود پی کر دیکھا فائل فوٹو


اندور: ایڈیشنل چیف سکریٹری دوبے کے سامنے پانی سپلائی فائل فوٹو


اندور، 21 جنوری (ہ س)۔

مدھیہ پردیش کے اندور شہر کے بھاگیرتھ پورہ میں آلودہ پانی سے ایک اور موت ہو گئی ہے۔ بھاگیرتھ پورہ کے رہنے والے ہیمنت گائیکواڑ (51) کا اروندو اسپتال میں علاج چل رہا تھا، جہاں بدھ کی صبح تقریباً 3 بجے انہوں نے دم توڑ دیا۔ اس کے بعد علاقے میں آلودہ پانی سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 25 ہو گئی ہے۔

اہل خانہ کے مطابق، ہیمنت خاندان کے واحد کمانے والے رکن تھے۔ ای-رکشہ چلا کر وہ اپنے خاندان کی پرورش کرتے تھے۔ ان کی چار بیٹیاں- ریا (21)، جیا (20)، خوشبو (16) اور منالی (12) ہیں۔

بیٹی جیا نے بتایا کہ پتا جی کو الٹی دست کی وجہ سے پہلے 24 دسمبر کو ورما نرسنگ ہوم میں داخل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 28 دسمبر کو انہیں ڈسچارج کر دیا گیا تھا، لیکن گھر پر ان کی طبیعت پھر سے خراب ہو گئی اور 8 جنوری کو اروندو اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق، انہیں سیل کارسینوما نامی کینسر اور کڈنی کی بیماری تھی، لیکن الٹی دست کی وجہ سے داخل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ان کی حالت خراب ہوتی گئی۔ کئی دنوں تک مسلسل علاج کے باوجود انہیں بچایا نہیں جا سکا۔

ضلع انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بھاگیرتھ پورہ علاقے میں پانی سے پیدا ہونے والے حادثے کے بعد کی گئی فوری اور مؤثر کارروائی کے نتیجے میں علاقے میں صورتحال تیزی سے معمول پر آ رہی ہے۔ او پی ڈی میں مریضوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔

چیف میڈیکل اینڈ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مادھو پرساد ہاسانی نے بتایا کہ علاقے میں مریضوں کی تعداد مسلسل گھٹ رہی ہے۔ منگل کو بھاگیرتھ پورہ پرائمری ہیلتھ سینٹر میں او پی ڈی میں 122 مریض پہنچے تھے، جس میں سے ڈائریا کے 3 مریض تھے۔ اسپتالوں میں اب تک کل 449 مریض داخل کیے جا چکے ہیں، جس میں سے 433 صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو لوٹ گئے ہیں۔ فی الحال 09 مریض ابھی بھی وارڈ میں داخل ہیں اور 07 آئی سی یو میں زیر علاج ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کلکٹر شیو ورما کی ہدایت کے مطابق علاقے میں 02 ایمبولینس لگائی گئی ہیں۔ ساتھ ہی ڈاکٹروں کی ڈیوٹی علاقے میں لگائی گئی ہے۔ مریضوں کو ایم وائی اسپتال، اروندو اسپتال اور بچوں کو چاچا نہرو اسپتال میں ریفر کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ ان اسپتالوں کو مفت علاج، جانچ اور دوا کے لیے ہدایت دی گئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande