یورینیم معاملے میں ایران کے ساتھ جاری تعطل مستقل نہیں رہنا چاہیے :گروسی
ویانا،21جنوری(ہ س)۔ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے زور دیا ہے کہ اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخیرے اور امریکہ و اسرائیل کی جانب سے نشانہ بنائی گئی تنصیبات کے معائنے پر ایران کے ساتھ جاری تعطل مستقل نہیں رہنا
یورینیم معاملے میں ایران کے ساتھ جاری تعطل مستقل نہیں رہنا چاہیے :گروسی


ویانا،21جنوری(ہ س)۔ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے زور دیا ہے کہ اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخیرے اور امریکہ و اسرائیل کی جانب سے نشانہ بنائی گئی تنصیبات کے معائنے پر ایران کے ساتھ جاری تعطل مستقل نہیں رہنا چاہیے۔ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے گروسی نے منگل کے روز خبردار کیا کہ اگر یہ صورت حال برقرار رہی تو ایک وقت ایسا آئے گا جب وہ یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ انہیں ان ایٹمی مواد کے مقام کا علم نہیں، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس مواد کے ہتھیاروں کے لیے استعمال یا اسے چھپائے جانے کی کوئی ضمانت نہیں ہوگی۔

گروسی کے مطابق ایجنسی نے ایران کی ان تمام 13 معلوم ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کیا ہے جو حملوں سے محفوظ رہیں، لیکن وہ جون میں نشانہ بننے والے تین اہم مقامات نطنز، فوردو اور اصفہان کا معائنہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران ایٹمی عدم پھیلاو¿ کے معاہدے (این پی ٹی) کا فریق ہونے کے ناطے اپنی ذمہ داریوں سے انحراف نہیں کر سکتا اور وہ اپنی مرضی کے مطابق شرائط کا انتخاب کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران نے تعاون نہ کیا تو وہ جلد ہی ایران کی جانب سے معاہدے کی عدم تعمیل کا اعلان کرنے پر مجبور ہوں گے۔گروسی نے امید ظاہر کی کہ رواں موسم بہار تک اس مسئلے کا حل نکل سکتا ہے۔ انہوں نے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بڑے معاہدے تک پہنچا جا سکے، جس سے فوجی کارروائی کے خطرات کم ہوں۔

ایران نے تا حال ایجنسی کو ان متاثرہ مقامات اور وہاں موجود مواد کی رپورٹ فراہم نہیں کی ہے۔ یاد رہے کہ ایجنسی کے مطابق ایران کے پاس 60 فی صد تک افزودہ 440.9 کلوگرام یورینیم موجود ہے، جسے اگر مزید افزودہ کیا جائے تو یہ 10 ایٹمی بم بنانے کے لیے کافی ہے۔ ایجنسی نے آخری بار ایران کے اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کی تصدیق 7 ماہ قبل کی تھی، جبکہ عالمی قواعد کے مطابق یہ معائنہ ماہانہ ہونا چاہیے۔ گروسی نے بتایا کہ وہ آئندہ چند روز یا ہفتوں میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کریں گے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande