
واشنگٹن،21جنوری(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاو¿س سے روانگی سے قبل بی بی سی سے گفتگو میں گرین لینڈ کے معاملے پر اپنے سخت مو¿قف کو ایک بار پھر دہرایا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا نیٹو کے ٹوٹنے کی قیمت وہ گرین لینڈ کے حصول کے لیے ادا کرنے کو تیار ہیں، تو اس کے جواب میں یوں محسوس ہوا کہ ٹرمپ کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ ان کے بیانات یا دھمکیوں سے لوگوں میں ناراضی اور غصہ بڑھ رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’میرا خیال ہے ہم کوئی ایسا راستہ نکال لیں گے جس سے نیٹو بھی خوش ہوگا اور ہم بھی خوش ہوں گے۔‘ تاہم اس ممکنہ سمجھوتے کی نوعیت پر انھوں نے کوئی وضاحت پیش نہیں کی۔ٹرمپ نے گرین لینڈ کو امریکہ کے لیے قومی سلامتی کے تناظر میں لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو یہ خطہ ضرور حاصل کرنا چاہیے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اس مقصد کے لیے کتنی دور تک جانے کو تیار ہیں، تو ان کا مختصر جواب تھا ’آپ کو اس کا جواب بہت جلد مل جائے گا۔‘ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران، جہاں ٹرمپ نے گرین لینڈ پر کئی ملاقاتیں طے کر رکھی ہیں، یہی سوال بار بار اٹھنے کی توقع ہے۔ صدر ٹرمپ اپنی تقریر میں اپنے پہلے سال کی کامیابیاں بھی گنوانا چاہتے ہیں لیکن اصل توجہ اس بات پر ہوگی کہ آنے والے سال میں گرین لینڈ کے حوالے سے ان کے منصوبے کیا ہیں۔تاہم اسی دوران گرین لینڈ کی وزیرِ صنعت و قدرتی وسائل ناجا ناتانیلسن نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اس بارے میں بالکل واضح ہیں کہ ہم نہ تو امریکی بننا چاہتے ہیں اور نہ ہی کہلانا۔‘ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan