
تہران،21جنوری(ہ س)۔ایرانی میڈیا نے 20 جنوری کو ملک بھر میں حالیہ مظاہروں کے دوران گرفتاریوں سے متعلق کہا ہے کہ حکام کی جانب سے ان حکومت مخالف مظاہروں کو ’فسادات‘ قرار دیا جا رہا ہے اور گرفتار افراد پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ ا±ن کے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ روابط کے بارے میں معلومات حاصل ہوئی ہیں۔پاسدارانِ انقلاب کے مغربی صوبہ لورستان میں قائم ابو الفضل کور نے اعلان کیا ہے کہ ان کی فورسز نے صوبے میں ہونے والے احتجاج سے متعلق ’ہنگامی کارروائیوں‘ کے ذریعے 134 ’ایجنٹس، اہم افراد اور اثر و رسوخ رکھنے والے رہنماو¿ں‘ کی شناخت کر کے انھیں گرفتار کر لیا ہے۔ یہ اطلاع آئی آر جی سی سے منسلک تسنیم نیوز ایجنسی نے دی۔
آئی آر جی سی کے صوبائی کور کے مطابق گرفتار افراد کا تعلق ’امریکی دہشت گرد نیٹ ورک‘ سے تھا اور انھوں نے ’دہشت گرد سیلز قائم کر رکھے تھے۔‘ بیان میں مزید الزام عائد کیا گیا کہ ان افراد نے داعش طرز کی کارروائیوں کے ذریعے مختلف اقسام کے اسلحے کا استعمال کرتے ہوئے سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کیے اور انھیں زخمی کیا۔فورس نے گرفتار افراد پر یہ الزام بھی لگایا کہ انھوں نے ’عوامی اور نجی مقامات کو تباہ کیا اور آگ لگائی‘، جن میں مساجد، دکانیں، بینک، نجی و سرکاری اور سروس گاڑیاں شامل ہیں۔ بیان کے مطابق ذمہ دار عناصر کے خلاف گرفتاریوں کا یہ سلسلہ ’تاحال جاری ہیں۔‘ایرانی صوبہ زنجان کے شمال مغربی علاقے میں تعینات پبلک سکیورٹی پولیس نے بتایا ہے کہ صوبائی دارالحکومت زنجان میں ہونے والے احتجاج کے دوران ’بدامنی اور افراتفری‘ پھیلانے کے الزام میں 150 ’شر پسندوں اور ا±ن کے رہنماو¿ں‘ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ تسنیم نیوز ایجنسی نے شائع کی۔پولیس کے مطابق گرفتار افراد کو ا±جرت دینے کا کہہ کر ان مظاہروں کے لیے ا±کسایا گیاتھا، جن پر الزام ہے کہ انھوں نے ’معصوم شہریوں کا خون بہایا، مقدس مقامات، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا، فوجی تنصیبات میں داخل ہونے کی کوشش کی، عوامی نظم و ضبط کو سبوتاڑ کیا اور عوام میں خوف و ہراس پھیلایا۔‘
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan