
ویانا،21جنوری(ہ س)۔فرانسیسی صدر عمانویل میکروں نے یورپی اتحادیوں کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی ہے۔ڈاووس فورم سے خطاب کرتے ہوئے صدر میکروں نے کہا کہ امریکہ یورپ کو کمزور اور اپنا تابع بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یورپ اقوام متحدہ سے وابستہ ہے اور طاقت کے قانون کی پالیسی کے خلاف پ±رامن انداز میں اعتراض کرے گا۔صدر میکروں کا کہنا تھا کہ کسی نئے نوآبادیاتی طرز عمل کو قبول کرنا کسی طور منطقی نہیں اور یورپ کے پاس ایسے آلات موجود ہیں جنہیں اس وقت استعمال کیا جانا چاہیے جب اس کا احترام نہ کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم غنڈہ گردی کے بجائے احترام اور سفاکیت کے بجائے قانون کی بالادستی کو ترجیح دیتے ہیں۔
صدر میکروں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یورپی ممالک کو اپنے مفادات کا تحفظ کرنا چاہیے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دیگر ممالک بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہوں۔فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان پاسکان کونفافرو نے وضاحت کی کہ فرانس امریکہ کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کو روکنا چاہتا ہے۔گرین لینڈ کے معاملے پر جسے امریکی صدر اپنی ملکیت میں لینے کے خواہاں ہیں ترجمان نے العربیہ اور الحدث سے گفتگو میں کہا کہ فرانس گرین لینڈ کے حوالے سے یورپ کے مفادات کا دفاع کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ قطبی جزیرہ نہ تو فروخت کے لیے ہے اور نہ ہی کسی کی ملکیت بن سکتا ہے۔غزہ سلامتی کونسل کے بارے میں فرانسیسی ترجمان کا کہنا تھا کہ پیرس کے پاس اس کونسل کے حوالے سے بنیادی سوالات موجود ہیں۔یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل فرانسیسی شراب اور شیمپین پر 200 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کرنے کی دھمکی دی، جو کہ غزہ سلامتی کونسل میں شرکت سے میکروں کے انکار کا ردعمل تھا۔ٹرمپ نے کہا کہ اس کونسل میں میکروں کی شرکت سے کسی کو کوئی غرض نہیں کیونکہ وہ جلد ہی منصب سے رخصت ہو جائیں گے۔
فرانسیسی صدر کے قریبی ذرائع نے امریکی صدر کی دھمکیوں کو نا قابل قبول اور غیر مو¿ثر قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہونے کے لیے کسٹم ڈیوٹی کی دھمکیاں قابل قبول ہیں اور نہ ہی مو¿ثر، جیسا کہ اس سے قبل بھی متعدد بار واضح کیا جا چکا ہے۔فرانس کی وزیر زراعت آنی جینیوار نے ٹی ایف ون چینل پر کہا کہ یہ دھمکی ناقابل قبول ہے، اس میں غیر معمولی سختی پائی جاتی ہے اور اس پر خاموش نہیں رہا جا سکتا، نہ صرف فرانس بلکہ پورے یورپی یونین کی جانب سے اس پر سخت رد عمل آئے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی یہ دھمکی دباو¿ ڈال کر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوشش اور بلیک میلنگ کا ایک ذریعہ ہے۔واضح رہے کہ سنہ 2025ءمیں دوسری مدت کے لیے وائٹ ہاو¿س واپسی کے بعد صدر ٹرمپ نے یورپی ممالک کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا ہے اور متعدد مواقع پر یورپی یونین اور نیٹو پر تنقید کی ہے۔انہوں نے روس اور یوکرین کے حوالے سے یورپی یونین کی پالیسی، نیٹو کی مالی معاونت اور گرین لینڈ سمیت دیگر معاملات پر بھی اعتراضات اٹھائے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan