ہندوستان کا پولینڈ کے پاکستان کے ساتھ رشتوں پر اعتراض
نئی دہلی، 19 جنوری (ہ س)۔ ہندوستان نے پولینڈ کے ساتھ باہمی تجارتی اور ثقافتی و عوامی تعلقات کو فروغ دینے کی اپنی خواہش کا اظہار کیا، لیکن اس کے ساتھ ہی اسے روس کے ساتھ تجارت کے معاملے پرٹیرف کے ذریعہ امریکہ کی طرف سے نا مناسب طریقے سے نشائے جانے او
INDIA-POLAND-TARIFF-PAKISTAN-TERRORISM-JAISHANKAR


نئی دہلی، 19 جنوری (ہ س)۔ ہندوستان نے پولینڈ کے ساتھ باہمی تجارتی اور ثقافتی و عوامی تعلقات کو فروغ دینے کی اپنی خواہش کا اظہار کیا، لیکن اس کے ساتھ ہی اسے روس کے ساتھ تجارت کے معاملے پرٹیرف کے ذریعہ امریکہ کی طرف سے نا مناسب طریقے سے نشائے جانے اور پولینڈ کے ذریعہ پاکستان کو دی جانے والی حمایت سے دہشت گردی کے ڈھانچے کو مضبوطی ملنے پر کھل کر اپنا اعتراض ظاہر کیا۔

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پیر کو یہاں حیدرآباد ہاو¿س میں جمہوریہ پولینڈ کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ رادوسلاو سیکورسکی کے ساتھ وفد کی سطح کی دو طرفہ میٹنگ کے دوران ہندوستان کا موقف کھل کر پیش کیا۔اس پرمہمان رہنما نے اتفاق کرتے ہوئے تسلیم کیاکہ ہندوستان کو منتخب ہدف بنانا غیر منصفانہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولینڈ بھی دہشت گردی کے تشدد کا شکار بنا ہے، اس لیے دہشت گردی کو تقویت دینے کی کسی بھی کوشش کی حمایت نہیں کر سکتا۔

رادوسلاو سیکورسکی اور اینی ایپل بام 17-19 جنوری تک ہندوستان کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے 17 اور 18 جنوری کو جے پور لٹریچر فیسٹیول میں شرکت کی تھی۔ وہ کل رات نئی دہلی پہنچے تھے۔ آج کی میٹنگ کے بعد ان کا آج رات وطن واپسی کا پروگرام ہے۔

میٹنگ میں اپنے ابتدائی کلمات میں، ڈاکٹر ایس جے شنکر نے پولینڈ کے نائب وزیر اعظم اور ان کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا، ”ہم ایک ایسے وقت میں ملاقات کر رہے ہیں جب دنیا میں کافی اتھل پتھل مچی ہوئی ہے۔ مختلف خطوں میں واقع دو ممالک کے طور پر،جن کے اپنے اپنے چیلنج اور مواقع ہیں،، خیالات اور نقطہ نظر کا تبادلہ کرنا مفید ہے۔ ہمارے دوطرفہ تعلقات بھی مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں، لیکن پھر بھی انہیں مسلسل توجہ دینے کی ضرورت ہے۔“

انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پولینڈ کے درمیان روایتی طور پر گرمجوشی بھرے اور دوستانہ تعلقات رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں، یہ اعلیٰ سطحی سیاسی تبادلوں اور متحرک اقتصادی اور عوام سے عوام کے تعلقات کے ذریعے نشان زد ہوا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے اگست 2024 میں پولینڈ کے دورے سے ہمارے تعلقات کو ایک اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا درجہ ملا۔

آج، ہم ایکشن پلان 2024-28 کا جائزہ لیں گے، جس کے ذریعے ہم اپنی سٹریٹجک شراکت داری کی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار لانا چاہتے ہیں۔ ہم تجارت اور سرمایہ کاری، دفاع اور سلامتی، ماحول کے لئے موزوں ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل اختراع میں اپنے تعاون کو آگے بڑھانے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پولینڈ وسطی یورپ میں ہندوستان کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے۔ ہماری دوطرفہ تجارت 7ارب امریکی ڈالر ہے، جس میں گزشتہ دہائی کے دوران تقریباً 200 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پولینڈ میں ہندوستانی سرمایہ کاری 3ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، جس سے پولینڈ کے لوگوں کے لیے روزگار کے بے شمار مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ ہندوستان کی مضبوط اقتصادی ترقی، اس کی مارکیٹ کا حجم اور سرمایہ کاری کے لیے دوستانہ پالیسیاں پولینڈ کے کاروباروں کے لیے بے پناہ مواقع فراہم کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا، ”ہم گہرے ثقافتی اور لوگوں کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے پر بھی غور کریں گے۔ ’ڈوبری مہاراج‘ ایک مقبول کڑی بنی ہوئی ہے۔ مجھے گزشتہ سال فروری میں پہلے جام صاحب میموریل یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت پولش نوجوانوں کے ساتھ ملاقات یاد ہے ۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ انڈولوجی فروغ پا رہی ہے اور یوگا پولینڈ میں مقبول ہے۔“

ڈاکٹر جے شنکر نے کہاکہآج، ہماری بات چیت میں قدرتی طور پر علاقائی اور عالمی پیش رفت شامل ہوں گی۔ خاص طور پر، ہمارے متعلقہ پڑوس کے بارے میں جائزوں کا تبادلہ مفید ثابت ہوگا۔ آپ اپنے دورے کے دوران بھی عوامی طور پر اس بارے میں بات کررہے ہیں۔“

حالیہ دنوں میں، گزشتہ ستمبر میں نیویارک میں اور اس جنوری میں پیرس میں، ہم نے کھل کر یوکرین کے تنازعہ اور اس کے مضمرات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے، ہم نے بارہا اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ہندوستان کو منتخب نشانہ بنانا غیر منصفانہ اور نامناسب ہے۔ انہوں نے کہا، ”میں نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ ہندوستان کو چنندہ طور پر نشانہ بنانا نہ صرف نامناسب ہے بلکہ مکمل طور پر بے بنیاد بھی ہے۔ آج میں دوبارہ اس بات کا اعادہ کرتا ہوں۔“

وزیر خارجہ نے کہا،”جناب نائب وزیر اعظم، آپ ہمارے خطے کے لیے کوئی اجنبی نہیں ہیں اور یقیناً سرحد پار دہشت گردی کے دیرینہ چیلنج سے آگاہ ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اس ملاقات میں ہم خطے کے آپ کے حالیہ دوروں پر بات کریں گے۔ پولینڈ کو دہشت گردی کے خلاف عدم رواداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ہمارے پڑوس میں دہشت گردی کے ڈھانچے کو فروغ دینے میں مدد نہیں کرنی چاہیے۔“

پولینڈ کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں ہندوستان کے تحفظات کا اعتراف کیا۔ جے پور لٹریچر فیسٹیول کو ایک ”شاندار عالمی ثقافتی تقریب“ کے طور پر بیان کرتے ہوئے، انہوں نے اس میں شرکت کرنے پر اپنی مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ ذاتی طور پر اور سرکاری طور پر اس سے پہلے کئی بار ہندوستان کا دورہ کر چکے ہیں، لیکن دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے قیام کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ ہے ۔ انہوں نے کہا، ”ہم ترقی اور مستقبل کے تناظر کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ ہم اپنے اپنے متعلقہ خطوں میں بہت متحرک ممالک ہیں اور اس لیے ہمیں موجودہ مواقع کو تلاش کرنا چاہیے۔ ہم ایسے ممالک بھیہیں جو 19ویں صدی میں نوآبادیاتی تھے، اس لیے ہمارے پاس اس علاقے میں خصوصی حساسیتیں ہیں۔“

رادوسلاو سیکورسکی نے کہا، ”میں سرحد پار سے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر آپ سے پوری طرح متفق ہوں۔ جیسا کہ آپ نے سنا ہو گا، پولینڈ حال ہی میں آتشزدگی اور ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا شکار ہوا، جب ایک چلتی ٹرین کے نیچے پولش ریلوے لائن کو اڑا دیا گیا۔ خوش قسمتی سے، دہشت گرد وں کی ناکامی کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ میںٹیرف کے ذریعہ چنندہ طور پر نشانہ بنانے کی ناانصافی پر بھی آپ سے مکمل طور پر متفق ہوں۔ یورپ میں ،ہم بھی اس کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں اور ہمیں لگتا ہے کہ اس سے عالمی تجارت میں اتھل پتھل ہو رہی ہے... ہمیں امید ہے کہ ہندوستان یورپ میں وابستہ رہے گا۔ ہم نے دیکھا ہے کہ آپ یورپ میں ہر جگہ سفارت خانے قائم کر رہے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ آپ یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔“

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande