
میدنی پور، 18 جنوری (ہ س)۔ مغربی میدنی پور ضلع کے شالبنی تھانہ علاقے کے تحت کوئما گاوں واقع وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے ڈریم پروجیکٹ مانے جانے والے اسٹیڈیم کو ایک بار پھر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بنیادی ڈھانچے اور مواصلاتی نظام کی کمی کے سبب یہاں مجوزہ انڈر-17 ’جرمن کپ‘ فٹ بال ٹورنامنٹ کے ضلع سطح کے مقابلے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
ایک وقت ماونوازوں کا گڑھ رہے شالبنی کے بھیم پور سے ملحقہ کوئما علاقے میں ریاستی پولیس کا کیمپ تھا، جسے ماو نواز تشدد کے دوران نذر آتش کر دیا گیا تھا۔ اقتدار کی تبدیلی کے بعد وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی پہل پر اسی کوئما میں ایک سرکاری کالج کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کے ساتھ ہی علاقے کے نوجوانوں کے کھیل کے فروغ کے مقصد سے کالج کے مغرب میں تقریباً ساڑھے 13 ایکڑ اراضی پر ایک عظیم الشان اسٹیڈیم تعمیر کرایا گیا۔ سال 2017 کے اپریل ماہ میں وزیر اعلیٰ کے ہاتھوں اسٹیڈیم کا افتتاح ہوا، لیکن اس کے باوجود یہاں باقاعدہ کھیل کی سرگرمیاں شروع نہیں ہو سکیں۔
اقریباً 6 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ اس اسٹیڈیم کو برسوں تک عدم توجہی کا شکار رہنا پڑا۔ میدان میں ’میکسیکن گھاس‘ کی جگہ جنگلی گھاس اگ آئی تھی، جبکہ گیلری، وی آئی پی باکس اور ڈریسنگ روم بھی خستہ حالت میں پہنچ گئے تھے۔ حال ہی میں مغربی میدنی پور ضلع پولیس کی پہل پر انڈر-17 اسکول طلبا کے لیے منعقدہ ’جرمن کپ‘ فٹ بال ٹورنامنٹ کے ضلع سطح کے مقابلوں کے لیے کوئما اسٹیڈیم کو منتخب کیا گیا تھا۔ اس کے بعد شالبنی بلاک انتظامیہ اور پنچایت سمیتی کی جانب سے جنگی پیمانے پر پہل کرتے ہوئے تقریباً 4 لاکھ روپے خرچ کر کے میدان اور اسٹیڈیم کی مرمت کرائی گئی۔
ہفتہ کی دوپہر ضلع مجسٹریٹ وجن کرشنا اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پلاش چندر ڈھالی سمیت ضلع و بلاک انتظامیہ اور پولیس کے سینئر افسران نے میدان کا معائنہ کیا۔ میدان کی حالت میں بہتری پائے جانے کے باوجود افسران نے مواصلاتی نظام اور دیگر ضروری بنیادی سہولیات کی کمی کو لے کر تشویش ظاہر کی۔ اس کے بعد ہفتہ کی شام کو ضلع پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے سرکاری اطلاع جاری کر کے بتایا گیا کہ کوئما اسٹیڈیم کو جرمن کپ کے لیے ’نا موزوں‘ قرار دیا گیا ہے۔
سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے واضح کیا کہ مواصلاتی سہولت سمیت کئی وجوہات کی بنا پر کوئما اسٹیڈیم کی جگہ شالبنی واقع نیتا جی سبھاش چندر بوس اسٹیڈیم میں ہی جرمن کپ کے ضلع سطح کے مقابلے منعقد کیے جائیں گے۔ یہ ٹورنامنٹ آئندہ 27 سے 30 جنوری تک منعقد ہوگا۔
اس بارے میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پلاش چندر ڈھالی نے بتایا، ’’کوئما اسٹیڈیم کے معیار کو اور تھوڑا بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس کے بعد وہاں کسی دیگر فٹ بال ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا جائے گا۔ فٹ بال کیمپ لگانے کی پہل بھی کی جائے گی۔‘‘
دوسری جانب ضلع مجسٹریٹ بپن کرشنا نے براہ راست طور پر کچھ نہیں کہا، لیکن شالبنی کے بی ڈی او رومن منڈل کا کہنا تھا، ’’ہم نے کوئما اسٹیڈیم کی تجدیدکاری کی ہے۔ ہفتہ کو ضلع مجسٹریٹ نے ہدایت دی ہے کہ شالبنی کی طرح ہی کوئما میں بھی مستقل فٹ بال اکیڈمی قائم کرنے کے لیے ضروری ڈی پی آر جمع کیا جائے۔‘‘ شالبنی بلاک اسپورٹس ایسوسی ایشن کے سکریٹری سندیپ سنگھ نے کہا، ’’کوئما اسٹیڈیم کی دیکھ بھال سمیت اس علاقے کے لڑکے لڑکیوں کے لیے ضلع مجسٹریٹ اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے کچھ منصوبوں کی جانکاری دی ہے۔ ہم پرامید ہیں۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ جھارگرام سرحد سے متصل کوئما گاوں کا سڑک اور ریل مواصلاتی نظام انتہائی کمزور ہے۔ میدنی پور شہر سے کوئما اسٹیڈیم کا فاصلہ سڑک کے راستے تقریباً 35 کلومیٹر ہے، جس میں پیراکاٹا سے کوئما تک قریب 8 کلومیٹر ریاستی سڑک کی حالت کافی خراب ہے۔ ریل راستے سے بھی اس علاقے کا کوئی براہ راست رابطہ نہیں ہے۔ اس کے برعکس شالبنی کا نیتا جی سبھاش چندر بوس اسٹیڈیم سڑک اور ریل، دونوں راستوں سے آسانی سے قابل رسائی ہے۔ ساتھ ہی وہاں کا بنیادی ڈھانچہ بھی کافی جدید ہے۔ سال 2025 میں یہاں پرائمری سطح کے ریاستی کھیلوں کے مقابلے کا کامیاب انعقاد ہو چکا ہے۔ انہی وجوہات کی بنا پر انتظامیہ نے کوئما کے بجائے شالبنی اسٹیڈیم کو ترجیح دی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن