مغربی بنگال میں نپاہ سے نمٹنے کے لیے ریاست گیر رہنما خطوط جاری ،دونوں متاثرین کی حالت مستحکم
کولکاتا، 17 جنوری (ہ س)۔ ریاستی حکومت نے نپاہ وائرس انفیکشن کے معاملوں کے خلاف احتیاطی تدابیر کے طور پر صحت کے نئے اور تفصیلی رہنما خطوط جاری کیے ہیں۔ تاہم فی الحال صورتحال قابو میں بتائی جارہی ہے۔ نپاہ انفیکشن کی روک تھام اور علاج کے نظام کو مزید
Wb-Nipah-virus-guideline


کولکاتا، 17 جنوری (ہ س)۔ ریاستی حکومت نے نپاہ وائرس انفیکشن کے معاملوں کے خلاف احتیاطی تدابیر کے طور پر صحت کے نئے اور تفصیلی رہنما خطوط جاری کیے ہیں۔ تاہم فی الحال صورتحال قابو میں بتائی جارہی ہے۔

نپاہ انفیکشن کی روک تھام اور علاج کے نظام کو مزید مو¿ثربنانے کے مقصد سے ریاستی محکمہ صحت کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین رہنما خطوط میں رابطے میں آئے افراد کی خطرے کی بنیاد پردرجہ بندی کرنے، قرنطینہ، کیمو -پروفیلیکسس، جانچ اور علاج کے لیے ایک واضح فریم ورک تیار کیا گیا ہے۔

رہنما خطوط کے مطابق، متاثرہ یا مشتبہ مریض کے خون، تھوک،لار، قے، پیشاب یا سانس جیسے کسی بھی جسمانی رابطے میں آنے والے یا 12 گھنٹے سے زائد عرصے سے کسی بند جگہ پر قریبی رابطے میں رہنے والے افراد کو ”ہائی رسک“ تصور کیا جائے گا۔ اس طرح کے غیر علامتی رابطوں کو 21 دن کے گھریلو قرنطین لازمی کیا گیا ہے اوران کی روزانہ صحت کی نگرانی کی جائے گی۔

اگر اس عرصے کے دوران بخار، سر درد، الٹی، سانس لینے میں دشواری، دورے یا ذہنی حالت میں تبدیلی جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں، تو مریض کو فوری طور پر اسپتال کے مخصوص آئسولیشن یونٹ میں داخل کیا جائے گا اور نپاہ آرٹی -پی سی آر ٹیسٹ کیا جائے گا۔

وہیں، مریض کے لباس، بستر، چادر یا دیگر اشیا (فومائٹس) کے ساتھ رابطے میں آنے والے افراد کو ”لورسک “ کے طور پر درجہ بندی کی جاتی ہے۔ ایسے افراد کی 21 دن تک نگرانی کی جائے گی اور اگر ان میں علامات ظاہر ہوں تو انہیں فوری طور پر آئیسولیٹ کیا جائے گا اور ٹیسٹ کیا جائے گا۔

رہنما خطوط اعلی خطرے والے رابطوں اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں کے لئے کیمو پروفیلیکسس پر غور کرنے کی سفارش کرتے ہیں جو مناسب ذاتی حفاظتی سامان کے بغیر مریضوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں، اینٹی وائرل ادویات جیسے کہ رائباویرن یا فیویپیراویر استعمال کرتے ہیں۔

آرٹی -پی سی آر مثبت اور علامتی نپاہ کے مریضوں کے لیے فوری طور پر اینٹی وائرل علاج شروع کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ علاج کے پروٹوکول میں ریمڈیسویر کے ساتھ رائباویرن یا فیویپیراویر کا استعمال اور ضرورت پڑنے پر مونوکلونل اینٹی باڈیز کے استعمال کی تجویز دی گئی ہے۔ سنگین حالت والے مریضوں کے علاج میں نیورولوجسٹ اور کریٹیکل نگہداشت کے ماہرین کی کثیر شعبہ ٹیم کے ذریعے معاون دیکھ بھال پر زور دیا گیاہے۔

ادھر ، نپاہ سے متاثر ہ دو نرسوں کی حالت فی الحال مستحکم ہے۔ دونوں باراسات کے ایک نجی اسپتال کے آئی سی یو میں زیر علاج ہیں۔

مشرقی میدینی پور کے مینا رہائشی بردر-نرس کو جمعرات کو وینٹی لیشن سے ہٹا لیا گیا اور اب وہ ہوش میں ہیں۔ وہیں، مشرقی بردوان کے کٹوا کی رہنے والی سسٹر -نرس اب بھی کوما میں ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق انہوں نے اپنے بازوو¿ں اور ٹانگوں کو حرکت دی ہے اور آنکھیں کھولنے کی کوشش بھی کی ہے جو کہ ایک مثبت علامت سمجھا جاتی ہے۔

محکمہ صحت کے مطابق دو متاثرہ نرسوں کے رابطے میں آنے والے کل 171 افراد کے نمونے ٹیسٹ کے لیے بھیجے گئے تھے جن میں سے اب تک 165 کی رپورٹ منفی آئی ہے۔

محکمہ صحت کے ایک اہلکار نے ہفتے کے روز واضح کیا کہ مریض کا ہر پانچ دن بعد آرٹی -پی سی آر ٹیسٹ کیا جائے گا۔ کسی دوسری طبی پیچیدگی کی عدم موجودگی میں، مریض کو 24 گھنٹے کے وقفے کے بعد، لگاتار دو منفی ٹیسٹوں کے بعد ہی اسپتال سے ڈسچارج کیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande