اندور پہنچے راہل گاندھی نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی، آلودہ پانی سے ہوئی اموات پر سوال اٹھائے
متاثرہ خاندانوں کو مالی مدد دی، حکومت متاثرہ کنبوں کو معاوضہ دے: راہل گاندھی بھوپال/اندور، 17 جنوری (ہ س)۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی ہفتہ کو مدھیہ پردیش کے اندور ضلع کے دورے پر پہنچے۔ انہوں نے آلودہ پانی کے سبب بیمار ہوئے لوگوں اور
اندور میں متاثرہ خاندانوں سے ملنے پہنچے راہل گاندھی


متاثرہ خاندانوں کو مالی مدد دی، حکومت متاثرہ کنبوں کو معاوضہ دے: راہل گاندھی

بھوپال/اندور، 17 جنوری (ہ س)۔

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی ہفتہ کو مدھیہ پردیش کے اندور ضلع کے دورے پر پہنچے۔ انہوں نے آلودہ پانی کے سبب بیمار ہوئے لوگوں اور جان گنوانے والوں کے لواحقین سے ملاقات کی۔ اس دوران انہوں نے حکومت پر سوال اٹھائے۔

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے سب سے پہلے بامبے اسپتال جا کر زیر علاج مریضوں اور ان کے اہل خانہ سے بات چیت کی اور حالات کی جانکاری لی۔ مہلوکین کے لواحقین سے ملنے کے بعد راہل گاندھی نے حکومت پر تیکھے سوال کیے۔ انہوں نے کہا کہ جس شہر کو اسمارٹ سٹی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، وہاں لوگوں کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں ہورہا۔ خاندان کے خاندان صرف پانی پینے سے بیمار پڑ گئے، جو شہری ترقیاتی ماڈل پر سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ یہ نام نہاد اربن ماڈل (شہری ماڈل) پوری طرح ناکام ہے اور حکومت اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے بچ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کئی خاندانوں نے اپنے پیاروں کو کھویا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ بیمار پڑے ہیں۔ انہوں نے آگے کہا کہ یہ مسئلہ صرف اندور تک محدود نہیں ہے، بلکہ ملک کے کئی شہروں میں ایسی ہی صورتحال بن رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن خاندانوں کو علاج کرانا پڑا اور جن کی اموات ہوئیں، انہیں حکومت کی جانب سے معاوضہ ملنا چاہیے۔

اندور دورے کے دوران راہل گاندھی پہلے بھاگیرتھ پورہ پہنچے، جہاں انہوں نے آلودہ پانی کے سبب جان گنوانے والی گیتا بائی اور جیون لال کے لواحقین سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے دونوں خاندانوں کو ایک ایک لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کی اور ان کا حال چال جانا۔ اس کے بعد راہل گاندھی سنسکار گارڈن پہنچے، جہاں انہوں نے دیگر متاثرہ خاندانوں سے گفتگو کی۔ یہاں بھی انہوں نے متاثرہ لواحقین کو ڈیڑھ ڈیڑھ لاکھ روپے کے چیک سونپے اور انہیں ہر ممکن مدد کا یقین دلایا۔ اس پورے دورے کے دوران راہل گاندھی کے ساتھ کانگریس کے کئی سینئر لیڈر موجود رہے۔ سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ، ریاستی انچارج ہریش چودھری، ریاستی کانگریس صدر جیتو پٹواری، اپوزیشن لیڈر امنگ سنگھار اور اجے سنگھ بھی ان کے ساتھ متاثرہ خاندانوں سے ملنے پہنچے۔

راہل گاندھی نے بامبے اسپتال میں آلودہ پانی سے بیمار ہوئے مریضوں کے لواحقین سے ملاقات کی۔ اسپتال کے پانچویں فلور پر داخل مریضوں کے لواحقین سے انہوں نے قریب پانچ سے دس منٹ تک بات چیت کی اور پورے واقعہ کی جانکاری لی۔ اس دوران سیکنڈ فلور پر وینٹی لیٹر پر داخل دو مریضوں کے لواحقین سے راہل گاندھی نے بیماری کی وجہ اور علاج سے جڑے حالات کے بارے میں سوال کیے۔ لواحقین نے بتایا کہ خراب پانی پینے کے سبب صحت بگڑی۔ علاج کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر لواحقین نے کسی طرح کی پریشانی سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ، حکومت اور اسپتال کی جانب سے انہیں ہر ممکن تعاون مل رہا ہے اور مریضوں کا علاج صحیح طریقے سے چل رہا ہے۔

جب راہل گاندھی سے پوچھا گیا کہ کیا وہ یہاں سیاست کرنے آئے ہیں، تو انہوں نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ متاثرین کی حمایت کرنے آئے ہیں اور اپوزیشن لیڈر ہونے کے ناطے ان کا معاملہ اٹھانا اور مدد کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ راہل گاندھی نے واضح کیا کہ وہ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں پینے کا محفوظ پانی فراہم کرایا جائے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande