
حیدرآباد، 16 ۔ جنوری (ہ س)۔
سن لو فڈ نویس! اگر اللہ نے چاہا تو ایک دن حجاب اور نقاب پہننے والی مسلمان خاتون ہندوستان کی وزیر اعظم بنے گی، ان شاء اللہ‘ — ایسی بے باک اور جرأت مندانہ بیان کے بعد مہاراشٹر کی سیاست میں ایک نیا نام گونجنے لگا ہے جسے لوگ اب ’لیڈی اویسی‘ کے نام سے پہچاننے لگے ہیں۔ بی ایم سی انتخابات کے دوران اے آئی ایم آئی ایم کی سرگرم لیڈر سیدہ فلک نے جس جارحانہ انداز میں اپوزیشن جماعتوں کو نشانہ بنایا، اس سے لوگوں کو خود اسدالین اویسی کی یاد آ گئی۔حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی 31 سالہ سیدہ فلک نے شولاپور سمیت مہاراشٹر کے مختلف علاقوں میں انتخابی مہم کی قیادت کی، جہاں ان کے جلسوں میں ہزاروں افراد کی بھیڑ جمع ہوئی اور ان کی پرجوش تقاریر نے نوجوانوں میں خاصا جوش بھر دیا۔اپنی بے باک تقاریر سے سیدہ فلک نے مہاراشٹرا میں اپنی ایک چھاپ چھوڑ گئی ہیں۔
پارٹی میں اویسی کے بعد انہیں سب سے مؤثر مقرر مانا جا رہا ہے۔ سیاست میں آنے سے پہلے سیدہ فلک ایک عالمی سطح کی کراٹے چیمپئن رہ چکی ہیں جنہیں ’فلک دی فائٹر‘ کے نام سے جانا جاتاہے۔وہ اب تک 20 سے زائد قومی اور 22 بین الاقوامی گولڈ میڈلز جیت چکی ہیں اور تلنگانہ کی پہلی خاتون ایتھلیٹ ہیں جنہوں نے ورلڈ اور ایشین کراٹے چیمپئن شپ کے لیے کوالیفائی کیا اور کامن ویلتھ کراٹے چیمپئن شپ میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔ پیشے کے اعتبار سے وہ ایک ایڈووکیٹ بھی ہیں اوراپنی کراٹے اکیڈمی کے ذریعے لڑکیوں کو سیلف ڈیفنس کی تربیت دیتی ہیں۔ سال 2020 میں اے آئی ایم آئی ایم میں شامل ہونے والی سیدہ فلک خواتین کے حقوق، آئینی اقدار اور اقلیتی مسائل پر مضبوط آواز بن کر ابھری ہیں اور آج مہاراشٹر کی سیاست میں ایک نئی طاقت اور بے خوف قیادت کے طور پر اپنی شناخت قائم کر چکی ہیں، جسے سیاسی ماہرین مستقبل کی قومی سیاست کا ایک اہم چہرہ مان رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق